مراکش

مراکش حکومت کا 2026-2031 کے لیے جامع پروگرام پیش، سماجی امداد دوگنا اور کم از کم پنشن 3 ہزار درہم ماہانہ کرنے کی تجویز

Read Time:6 Minute, 5 Second

مراکش، یورپ ٹوڈے: مراکش کی سربراہِ حکومت فاطمہ الزہراء المنصوری نے 2026 سے 2031 تک کی پارلیمانی مدت کے لیے حکومتی پروگرام پیش کرتے ہوئے سماجی تحفظ، عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری، اقتصادی ترقی اور سماجی انصاف کو حکومتی پالیسی کے بنیادی ستون قرار دیا ہے۔

پیر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی پروگرام پیش کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت اپنی مدت کے اختتام تک کم آمدنی والے مستحق خاندانوں کے لیے براہِ راست ماہانہ سماجی امداد 500 مراکشی درہم سے بڑھا کر ایک ہزار درہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے اثرات کم کرنے کے لیے گھریلو آمدنی میں اضافے، قیمتوں میں اضافے کے اسباب پر قابو پانے، سماجی تحفظ کے دائرہ کار میں توسیع اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات کرے گی۔

مجوزہ اصلاحات کے تحت براہِ راست سماجی امداد کے لیے اہلیت کا تعین موجودہ سماجی و اقتصادی اشاریے کے بجائے خاندان کی حقیقی آمدنی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یہ اشاریہ اس وقت متحدہ سماجی رجسٹری (RSU) میں استعمال ہوتا ہے۔ حکومت بے روزگاری الاؤنس تک رسائی بڑھانے اور سماجی امداد کو معاشی و سماجی انضمام کے مؤثر ذریعے میں تبدیل کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

نیشنل ایجنسی فار سوشل سپورٹ (ANSS) کے مطابق دسمبر 2023 سے دسمبر 2025 تک یکمشت براہِ راست سماجی امداد کی مد میں 18.2 ارب مراکشی درہم تقسیم کیے گئے، جس سے تقریباً 14 لاکھ 70 ہزار خاندان مستفید ہوئے۔ ایجنسی نے 2026 میں صرف یکمشت امداد کے لیے 9 ارب درہم مختص کرنے کی پیش گوئی کی ہے۔

حکومت مستحق خاندانوں کی بنیادی رہائش گاہوں کے لیے ماہانہ 100 درہم تک کے بجلی کے بلوں پر خودکار سماجی رعایت متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جس سے کاغذی درخواستوں اور سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

صارفین کو مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف دینے کے لیے اشیائے ضروریہ کی فراہمی بہتر بنانے، علاقائی کمپنیوں اور پیشہ ورانہ مارکیٹنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے پیداوار کنندگان اور صارفین کے درمیان فاصلہ کم کرنے اور غذائی اجناس کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے اقدامات بھی پروگرام میں شامل ہیں۔

فاطمہ الزہراء المنصوری نے گوشت اور مچھلی کی تقسیم کے نظام میں اصلاحات اور برآمدات و مقامی منڈیوں کی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے واضح اور قابلِ پیش گوئی ضوابط وضع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ تنخواہ دار ملازمین کے لیے انکم ٹیکس میں مرحلہ وار اصلاحات کی جائیں گی تاکہ ان کی خالص آمدنی میں اضافہ اور رسمی روزگار کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

پنشن، صحت اور رہائش کے شعبوں میں اصلاحات

حکومتی پروگرام میں صحت کی سہولیات اور سماجی تحفظ کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ سربراہِ حکومت نے قومی سماجی تحفظ کے منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے اور لازمی ہیلتھ انشورنس کو جامع، مؤثر اور مالی طور پر پائیدار بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد محض صحت کی سہولیات تک رسائی کا حق فراہم کرنا نہیں بلکہ تمام شہریوں کے لیے معیاری طبی خدمات کی منصفانہ اور مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔

اس سلسلے میں مختلف علاقوں کے درمیان طبی سہولیات کے فرق کو کم کرنے، مریضوں کے استقبال اور ہنگامی طبی خدمات کو بہتر بنانے، فوری طبی امداد کی فراہمی بڑھانے اور صحت سے متعلق معلومات کا متحدہ قومی نظام قائم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ سرکاری شعبے کے طبی عملے کے لیے اضافی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

پنشن نظام میں اصلاحات سماجی و اقتصادی شراکت داروں سے مشاورت کے بعد کی جائیں گی۔ فاطمہ الزہراء المنصوری کے مطابق یہ اصلاحات صرف ریٹائرمنٹ کی عمر، شراکت کی شرح اور پنشن کے حساب کتاب میں تبدیلیوں تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ ایک مربوط نظام کی تشکیل پر توجہ دی جائے گی، جس کے ذریعے پنشن سے محروم افراد کو بھی سماجی تحفظ فراہم کیا جا سکے گا اور موجودہ مستحقین کے حقوق کو منصفانہ عبوری طریقہ کار کے تحت محفوظ رکھا جائے گا۔

پروگرام میں مختلف پنشن نظاموں کے تحت کم از کم بنیادی پنشن بتدریج بڑھا کر ماہانہ 3 ہزار مراکشی درہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اسی طرح بیوہ کی پنشن متوفی شوہر کی بنیادی پنشن کے 50 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ یتیم بچوں اور دیگر مستحقین کے حقوق بھی برقرار رکھے جائیں گے۔

حکومت خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، مساوی مواقع کے فروغ، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے اور فیصلہ سازی کے عہدوں پر ان کی نمائندگی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔ دیہی علاقوں اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ تک رسائی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

اس کے علاوہ عائلی قوانین میں اصلاحات جاری رکھنے، بچوں، نوجوانوں اور بزرگ شہریوں کے لیے مربوط پالیسیاں نافذ کرنے اور بچوں کے تحفظ سمیت معذور افراد کے حقوق کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔

رہائشی پالیسی کے تحت مناسب اور سستے گھروں کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ شہریوں کو روزگار، ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات کے قریب رہائش میسر آ سکے۔ اپنے گھر کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے موجودہ امدادی پروگراموں کو جاری رکھنے کے ساتھ کرائے کے گھروں کی قومی سطح پر فراہمی بڑھانے کا بھی منصوبہ ہے۔

دیہی علاقوں میں 2026 سے 2031 کے دوران ایک لاکھ مکانات تعمیر کرنے یا ان کی بحالی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، بالخصوص ابھرتے ہوئے دیہی مراکز میں۔ اہل خاندانوں کو فی گھرانہ 40 ہزار مراکشی درہم کی براہِ راست امداد اور مفت تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔

دیہی علاقوں کے لیے الگ شہری منصوبہ بندی کا قانون متعارف کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کا مقصد تعمیراتی طریقہ کار آسان بنانا اور حفاظتی تقاضے پورے کرنے والی موجودہ عمارتوں کو قانونی حیثیت دینے کے عمل کو سہل بنانا ہے۔

تعلیم اور علاقائی ترقی ترجیحات میں شامل

تعلیم کے شعبے میں حکومت نے 2031 تک طلبہ میں بنیادی تعلیمی قابلیت اور مہارتوں کی کم از کم 80 فیصد شرح حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اس کے ساتھ 2030 تک اسکول چھوڑنے کی شرح صفر تک لانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم ادھوری چھوڑنے کے خطرے سے دوچار طلبہ کی بروقت نشاندہی اور ان کی تعلیمی پیش رفت کی انفرادی بنیادوں پر نگرانی کی جائے گی۔

علاقائی ترقی کے فروغ کے لیے مراکش کے مختلف خطوں کو مالی منتقلی 2027 سے سالانہ کم از کم 12 ارب درہم تک بڑھانے کی توقع ہے۔ یہ مالی وسائل روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور مختلف علاقوں کے درمیان ترقیاتی تفاوت کم کرنے کے اہداف سے منسلک ہوں گے۔

فاطمہ الزہراء المنصوری نے کہا کہ شہریوں کے لیے باوقار زندگی کے حالات یقینی بنائے بغیر ایک مضبوط سماجی ریاست کی بنیاد مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اقتصادی ترقی اور سماجی انصاف کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مراکش کی حکومت کا 2026-2031 کا یہ پروگرام آمدنی میں معاونت، روزگار، پنشن، صحت، رہائش، تعلیم اور علاقائی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں وسیع اصلاحاتی ایجنڈے کا احاطہ کرتا ہے، جس پر عمل درآمد آئندہ پانچ سال کے دوران ملک کی سماجی اور اقتصادی ترجیحات کا تعین کرے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا قلات اور گوادر میں کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
انڈونیشیا Next post اقوام متحدہ میں جامع اصلاحات ناگزیر ہیں، ادارے کو زیادہ مؤثر، شفاف اور جوابدہ بنانا ہوگا، انڈونیشیا