
پاکستان کا پُرامن جوہری توانائی کے شعبے میں مساوی اور بلاامتیاز عالمی تعاون پر زور
اقوام متحدہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے اپنی قومی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پُرامن جوہری تعاون کو مساوی، منصفانہ اور بلاامتیاز بنیادوں پر فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی کے لیے دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز میں بین الاقوامی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی سالانہ رپورٹ پر بحث کے دوران پاکستانی مشن کے کونسلر سید عاطف رضا نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال میں عالمی تعاون کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ یہ عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) کے ممالک کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جوہری تحفظ اور سلامتی سے متعلق اہم بین الاقوامی معاہدوں کا فریق ہے اور تمام ممالک کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے تقاضوں کے مطابق پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنے کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہونا چاہیے۔
سید عاطف رضا نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری تحفظ یا بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری سے متعلق معاملات کو سیاسی جانبداری سے بالاتر ہو کر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی جیسے متعلقہ تکنیکی اداروں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ زیر التوا معاملات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔
پاکستانی مندوب نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ غیر ذمہ دارانہ اور کشیدگی بڑھانے والے بیانات، اقدامات اور طرزِ عمل سے گریز کریں، کیونکہ اس سے تناؤ میں اضافہ اور تنازعات کے جنم لینے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت چھ جوہری بجلی گھر چلا رہا ہے، جو تمام کے تمام آئی اے ای اے کے حفاظتی نگرانی کے نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ یہ جوہری بجلی گھر ملک کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں، جبکہ کم کاربن اخراج والی بجلی کی مجموعی پیداوار میں ان کا حصہ تقریباً ایک تہائی ہے۔
سید عاطف رضا نے پُرامن مقاصد کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق آئی اے ای اے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایجنسی کے اہم اقدامات پر کامیاب عمل درآمد کی امید ظاہر کی۔
اجلاس کے آغاز میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے شام، ایران اور یوکرین میں جوہری امور سے متعلق صورتِ حال پر جنرل اسمبلی کو بریفنگ دی۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد ایجنسی کو شام میں ان تنصیبات تک رسائی حاصل ہوئی ہے جہاں پہلے رسائی محدود تھی۔ ان کے مطابق شام میں موجود تمام جوہری مواد اب نگرانی اور تصدیق کے نظام کے تحت ہے، جو دمشق کی عالمی برادری میں دوبارہ شمولیت کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
گروسی نے کہا کہ محتاط سفارت کاری، مستقل مزاجی اور حقائق پر مبنی غیر جانب دارانہ تکنیکی کام مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔
ایران کے حوالے سے آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا کہ ایجنسی نے ایرانی جوہری سرگرمیوں کی تصدیق کے لیے زیادہ تر تکنیکی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے ذریعے معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی معاہدے کے بغیر دیرپا اور مستحکم حل ممکن نہیں، جبکہ ایسے معاہدے کے لیے تصدیق کا عمل ناگزیر ہے۔
یوکرین کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے گروسی نے زاپوریزہیا جوہری بجلی گھر کو درپیش مسلسل جوہری تحفظ کے خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی اے ای اے تقریباً پانچ سال سے اس تنصیب میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق ایجنسی نے حال ہی میں روس اور یوکرین کے درمیان مقامی سطح پر آٹھویں عارضی جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ضروری مرمت کا راستہ ہموار ہوا تاکہ کسی ممکنہ جوہری حادثے سے بچا جا سکے۔
گروسی نے جاپان کے فوکوشیما جوہری بجلی گھر سے صاف کیے گئے پانی کے اخراج کی آزادانہ نگرانی کے حوالے سے بھی ایجنسی کے کردار کو اجاگر کیا۔
ترقی پذیر ممالک میں جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے لیے جوہری توانائی تک رسائی کو وسعت دینا ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی بینک کی جانب سے جوہری توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت کے فیصلے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔