
پنجاب میں شدید موسمی حالات کی پیشگی اطلاع کے لیے مربوط ارلی وارننگ سسٹم قائم کرنے پر اتفاق
لاہور، یورپ ٹوڈے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے شدید موسمی حالات اور قدرتی آفات کی بروقت پیش گوئی کے لیے مربوط ارلی وارننگ سسٹم قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ ممکنہ خطرات سے قبل مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی حکومت کے تعاون سے پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب سے متعلق مرکزی معلوماتی اسکرینیں نصب کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی شدید موسمی صورتحال کی پیش گوئی ہونے کی صورت میں متعلقہ اداروں کے درمیان کم از کم چھ گھنٹے قبل باقاعدہ رابطہ اور ہم آہنگی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کو ہدایت کی کہ وہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط بنائے۔ انہوں نے شدید گرمی اور موسلادھار بارشوں کے دوران سیاحتی سرگرمیوں کو منظم رکھنے اور عوام کے لیے جامع حفاظتی ہدایات جاری کرنے کی بھی ہدایت دی۔
انہوں نے ضلعی سطح پر سیلاب اور دیگر شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے لاجسٹک نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی خدمات، جو پہلے صرف لاہور تک محدود تھیں، اب پورے پنجاب تک توسیع دی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے مشینری بڑے شہروں سے بھیجی جاتی تھی، تاہم اب ہر ضلع کو جدید مشینری فراہم کر دی گئی ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید اور غیر متوقع موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر بروقت منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ گزشتہ سال بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے نمٹنے کے لیے وقت محدود تھا، تاہم پنجاب کے اداروں نے مؤثر انداز میں صورتحال کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام صوبائی حکومتوں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور وفاق پنجاب کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
صوبائی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے برعکس اس مرتبہ مون سون سیزن سے قبل ہی تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل المدتی منصوبوں پر عمل پیرا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے تین سالہ جامع حکمت عملی بھی تیار کی جا چکی ہے۔
حکام نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے ملک کا پہلا کلائمیٹ ٹیگڈ بجٹ متعارف کرایا ہے۔ مزید برآں سیلاب سے متاثرہ تمام آبپاشی ڈھانچے بحال کر دیے گئے ہیں، حساس مقامات کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے اور بیراجوں کی استعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں ہیٹ ویوز اور دیگر شدید موسمی حالات کے حوالے سے بروقت انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ حساس اضلاع میں چارہ، پانی، ادویات اور موبائل ویٹرنری ڈسپنسریاں فراہم کر دی گئی ہیں۔ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تنظیمِ نو کی گئی ہے اور ریسکیو 1122 کو جدید نیویگیشن سسٹمز سے بھی لیس کیا گیا ہے۔
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ حساس اضلاع میں یونین کونسل کی سطح پر فیلڈ فارمیشنز اور گودام قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ جلال پور فلڈ پروٹیکشن بند کی تعمیر 31 جولائی تک مکمل کر لی جائے گی۔