
کوئٹہ کے سور رینج کوئلہ کان دھماکے میں جاں بحق کان کنوں کی تعداد 34 ہو گئی، امدادی کارروائیاں جاری
کوئٹہ، یورپ ٹوڈے: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سور رینج میں واقع کوئلے کی کان میں میتھین گیس کے دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی ہے، جبکہ زیرِ زمین پھنسے باقی مزدوروں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کے مطابق یہ حادثہ جمعرات کو کان کے اندر میتھین گیس جمع ہونے کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور کان کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا، جس سے درجنوں کان کن ملبے تلے دب گئے۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ معدنیات و معدنی وسائل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کے وقت کان میں مجموعی طور پر 41 مزدور کام کر رہے تھے۔ اطلاع ملتے ہی محکمہ معدنیات، ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ پھنسے ہوئے باقی کان کنوں تک رسائی کے لیے کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔
چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف نے بتایا کہ کان کن تقریباً ڈھائی سے تین ہزار فٹ گہرائی میں کام کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہوا۔ ان کے مطابق دھماکے سے وہ متبادل راستہ بھی متاثر ہوا جس کے ذریعے کان میں ہوا اور آکسیجن کی فراہمی کی جاتی تھی، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکار بھاری مشینری اور دستیاب وسائل کی مدد سے پھنسے ہوئے مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ نکالی گئی لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں سے ضروری کارروائی کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کان میں موجود تمام مزدوروں تک رسائی اور انہیں نکالنے تک امدادی کارروائیاں بغیر کسی وقفے کے جاری رکھی جائیں گی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے محکمہ معدنیات کو فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حادثے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی سور رینج میں کوئلے کی کان کے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میتھین گیس جمع ہونے کے باعث پیش آنے والا یہ سانحہ انتہائی افسوسناک ہے۔
وزیراعظم نے پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ امدادی کارروائیاں مؤثر اور تیز رفتاری سے جاری رکھی جائیں اور زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متاثرہ مزدوروں کو نکالنے اور امدادی سرگرمیوں کی تکمیل تک ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے۔
شہباز شریف نے جاں بحق مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مستقل اور مؤثر حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں، کیونکہ محنت کش مزدور ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران کوئلہ کانوں میں میتھین گیس اور حفاظتی انتظامات کے فقدان کے باعث متعدد جان لیوا حادثات پیش آ چکے ہیں، جن کے بعد کان کنی کے شعبے میں حفاظتی معیار مزید سخت کرنے کا مطالبہ مسلسل کیا جا رہا ہے۔