
کیوبا پر تیل پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ، امریکی کانگریس میں اپیل
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: کانگریشنل بلیک کاکس کی چیئرپرسن یوویٹ ڈی کلارک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایک باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے کیوبا پر عائد تیل سے متعلق پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعہ کے روز جاری کیے گئے خط میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کیوبا اس وقت شدید انسانی بحران سے گزر رہا ہے اور موجودہ امریکی اقتصادی پابندیاں اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان پالیسیوں کے باعث جزیرے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
یوویٹ ڈی کلارک نے خبردار کیا کہ پابندیوں کے نتیجے میں خوراک کی قلت، صحت کے نظام کی کمزوری اور بنیادی ضروریات تک محدود رسائی کے باعث عام شہریوں کی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہے، خصوصاً حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ بعض رپورٹس کے مطابق 2018 کے بعد سے کیوبا میں بچوں کی اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو موجودہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
کانگریشنل بلیک کاکس نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ یہ گروپ طویل عرصے سے امریکی خارجہ پالیسی میں سفارتی حل اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات کی حمایت کرتا رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق موجودہ پابندیوں کا نظام عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔
یوویٹ ڈی کلارک نے اپنے خط میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب بہت ہو چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیوبا پر عائد تیل کی پابندی ختم کی جائے، اقتصادی پابندیاں نرم کی جائیں اور کیوبا کے عوام کو بنیادی ضروریات تک رسائی دی جائے۔
یہ خط واشنگٹن میں کیوبا کے حوالے سے امریکی پابندیوں کی پالیسی اور اس کے انسانی اثرات پر جاری بحث کو مزید تقویت دے رہا ہے۔