
جاپان کے صوبہ کوماموتو میں 7.1 شدت کا طاقتور زلزلہ، 50 سے زائد افراد زخمی، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ شہری محفوظ مقامات پر منتقل
ٹوکیو، یورپ ٹوڈے: جاپان کے جنوبی صوبے کوماموتو میں منگل کے روز 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد زخمی ہوگئے، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، ہزاروں گھروں کی بجلی منقطع ہوگئی جبکہ ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کو ہنگامی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
جاپانی حکام اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق زلزلے کے بعد ملک بھر میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حکومت نقصانات اور جانی نقصان کی مکمل تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہے۔
ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے کہا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے (NHK) کے مطابق ایک اسپتال میں 50 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ نکی ایشیا نے رپورٹ کیا کہ زلزلے کے وقت تیز رفتار ریل گاڑی (شنکانسن) میں سوار کئی مسافر بھی زخمی ہوئے۔
زلزلے کے باعث کوماموتو صوبے میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر متاثر ہوا۔ ایک ایون (Aeon) شاپنگ مال میں دھماکے کی اطلاع ملی، جبکہ ٹیلی ویژن فوٹیج میں کئی عمارتوں کو آگ کی لپیٹ میں یا جزوی طور پر منہدم ہوتے دیکھا گیا۔ ایون انتظامیہ نے واقعے کی معلومات جمع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے فوری طور پر مزید تبصرے سے گریز کیا۔
زلزلے نے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ اہم شاہراہوں، خصوصاً بلند تعمیر شدہ ایکسپریس وے پر گہری دراڑیں پڑ گئیں، ایک مال بردار ٹرین پٹری سے اتر گئی، جبکہ ریلوے کمپنی جے آر کیوشو (JR Kyushu) نے شنکانسن سمیت تمام ٹرین سروسز عارضی طور پر معطل کر دیں۔ کوماموتو ایئرپورٹ نے بھی حفاظتی اقدامات کے تحت اپنی رن وے بند کر دی، جس کے باعث متعدد پروازیں منسوخ یا متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دی گئیں۔
کیوشو الیکٹرک پاور کے مطابق تقریباً 40 ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی، جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں KDDI اور این ٹی ٹی ڈوکومو (NTT Docomo) نے بھی موبائل نیٹ ورک میں خلل کی تصدیق کی، جس کی وجہ بجلی کی بندش اور مواصلاتی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان بتایا گیا۔
احتیاطی تدابیر کے طور پر تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) نے متاثرہ علاقے میں قائم اپنے سیمی کنڈکٹر پلانٹ سے ملازمین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا، جبکہ سونی اور فوجی فلم نے بھی اپنے مقامی کارخانوں سے کارکنوں کا انخلا کر کے حفاظتی جائزہ شروع کر دیا۔
جاپان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد شہریوں کو ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی (JMA) نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران مزید طاقتور آفٹر شاکس آنے کا خدشہ برقرار ہے، جبکہ زمین کے غیر مستحکم ہونے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
زلزلے کے فوراً بعد جے ایم اے نے کیوشو جزیرے کے سات صوبوں، جن میں کوماموتو، ناگاساکی، کاگوشیما، فوکوؤکا، ساگا، اوئیتا اور میازاکی شامل ہیں، کے لیے ہنگامی زلزلہ الرٹ جاری کیا۔ ایک میٹر تک بلند سونامی لہروں کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اسے واپس لے لیا گیا۔
جاپان کے نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ علاقے میں واقع کسی بھی جوہری بجلی گھر میں غیر معمولی صورتحال یا تکنیکی خرابی سامنے نہیں آئی۔
زلزلے کے نتیجے میں جاپان کے تاریخی کوماموتو قلعے کو بھی نقصان پہنچا، جہاں کئی صدیوں پرانی پتھریلی فصیل کے کچھ حصے گر گئے۔
جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں، کیونکہ یہ بحرالکاہل کے معروف رِنگ آف فائر پر واقع ہے، جہاں کئی زمینی پلیٹیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 6.0 یا اس سے زائد شدت کے آنے والے تقریباً 20 فیصد زلزلے جاپان میں ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔
حالیہ زلزلے نے 2016 کے تباہ کن کوماموتو زلزلے کی یاد تازہ کر دی، جس میں 275 افراد ہلاک، 2,739 زخمی ہوئے تھے جبکہ تاریخی کوماموتو قلعے سمیت وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔ حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔