آئی ایس پی آر

40 ہزار 348 انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں 2 ہزار سے زائد دہشت گرد ہلاک، ڈی جی آئی ایس پی آر کا دہشت گردوں کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عزم

Read Time:3 Minute, 17 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں، یا وہ آئین اور قانون کے سامنے ہتھیار ڈال دیں یا پھر اپنے انجام کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رواں سال ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز نے انسدادِ دہشت گردی کی 40 ہزار 348 کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی اور قومی سلامتی سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال اب تک ملک بھر میں دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبر پختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان جبکہ 26 دیگر علاقوں میں پیش آئے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز روزانہ اوسطاً 194 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہی ہیں، جو ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری بھرپور مہم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق رواں سال دہشت گردی کے حملوں میں 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں 303 فوجی اہلکار، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال 28 خودکش حملے ہوئے اور گزشتہ برس کی طرح ان میں ملوث خودکش حملہ آوروں کی اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹانک اور کراچی کے حالیہ واقعات میں بھی افغان شہری ملوث تھے، جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز سے وابستہ بعض افراد بھی دہشت گرد کارروائیوں میں شامل پائے گئے، جنہیں ہلاک یا گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی مؤثر حکمت عملی کے باعث ریاستی اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور دہشت گردوں کے سرپرست یہ جان چکے ہیں کہ اب کسی قسم کی مفاہمت یا مذاکرات کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا واضح مؤقف ہے کہ دہشت گردوں کو آئین اور قانون کی بالادستی تسلیم کرنا ہوگی، بصورت دیگر انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ اور بعض قبائلی سردار ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے پرانے نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور یہی عناصر دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر اسمگلنگ، منشیات اور غیر قانونی کاروبار سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور ان سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ہونے پر دہشت گردی کا سہارا لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی اسٹریٹجک اہمیت، قدرتی وسائل اور ترقی دشمن عناصر کی نظروں میں کھٹکتی ہے، اسی لیے وہ دہشت گرد گروہوں کے ذریعے صوبے کے امن اور ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور افغانستان کا دہشت گردی کی سرپرستی کے حوالے سے گٹھ جوڑ واضح ہے اور دونوں کا مشترکہ ہدف پاکستان میں بدامنی پھیلانا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی، صحت، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں آج 15 ہزار سے زائد اسکول، 12 جامعات، متعدد میڈیکل کالجز، جدید اسپتال، ہزاروں کلومیٹر سڑکوں کا جال اور دیگر ترقیاتی منصوبے موجود ہیں، جبکہ فی کس ترقیاتی بجٹ بھی دیگر صوبوں سے زیادہ ہے۔

لاپتا افراد کے معاملے پر انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے قائم کمیشن کو اب تک 10 ہزار 901 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 9 ہزار 372 نمٹا دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق 4 ہزار 896 افراد اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں، ایک ہزار 30 جیلوں میں پائے گئے، 308 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 2 ہزار 400 شکایات غلط رپورٹنگ پر مبنی تھیں۔ بلوچستان سے موصول ہونے والے 2 ہزار 933 کیسز میں سے 2 ہزار 767 نمٹا دیے گئے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا غزہ امن منصوبے کے تحت تخفیفِ اسلحہ کی پیش رفت کا خیرمقدم