
کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکا، 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 شہید، 57 زخمی
پشاور، یورپ ٹوڈے: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں نماز جمعہ کے وقت پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے اور اس کے بعد مسلح حملہ آوروں کی کارروائی کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید جبکہ 57 دیگر زخمی ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق دھماکا مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہوا، جس کے بعد 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک 6 دہشت گرد، جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل ہے، ہلاک کیے جاچکے ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر ایک خودکش حملہ آور نے دھماکے کے بعد اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
افغانستان میں مقیم حافظ گل بہادر کی قیادت میں سرگرم تنظیم اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) نے دھماکے اور متعدد حملہ آوروں پر مشتمل کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے متعدد مواقع پر افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے، تاہم کابل میں قائم عبوری حکام کی جانب سے افغان سرزمین پر سرگرم بعض دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے تحفظات برقرار ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حامد کی براہ راست نگرانی میں علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حامد نے کہا کہ حکام دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا رہے ہیں اور انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پولیس لائنز کمپاؤنڈ کے اندر ’فتنہ الخوارج‘ کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور بزدلانہ حملے اس کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اس سے قبل ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا تھا کہ 30 سے زائد زخمیوں اور 7 لاشوں کو قریبی اسپتالوں منتقل کیا گیا، جبکہ زخمیوں میں متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ پر سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 14 ایمبولینسیں، ریسکیو گاڑیاں، ایک ریکوری گاڑی اور 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر نورالامین خود امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی، جبکہ مزید معلومات موصول ہونے پر تفصیلات جاری کی جائیں گی۔