
مالی سال 2027 میں معاشی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کی توقع، ترسیلاتِ زر 41.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان: گورنر اسٹیٹ بینک
کراچی، یورپ ٹوڈے: گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال 2027 کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ مالی سال 2026 کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق ترسیلاتِ زر 41.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ملکی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، جو عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران برآمدی آمدن میں اضافے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال کے دوران برآمدات میں دیکھی گئی کمی کا رجحان تبدیل ہونے کی توقع ہے۔
جمیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً اسی سطح پر برقرار رہا ہے، تاہم قرضوں کی ادائیگی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے پاس اس وقت زرِمبادلہ کے ذخائر 15 دن کی درآمدات کے لیے درکار سطح سے کئی سو فیصد زیادہ موجود ہیں، جو بیرونی شعبے کے استحکام اور مالیاتی پوزیشن میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ معاشی اشاریے مثبت سمت میں گامزن ہیں اور حکومت و اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی معیشت مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔