
برکس ممالک کے اہم معدنی و توانائی وسائل سبز صدی کی بنیاد ہیں: انڈونیشین صدر
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا ہے کہ برکس ممالک کے پاس موجود اہم معدنیات اور توانائی کے وسائل موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں ایک سبز صدی کی تشکیل کے لیے اسٹریٹجک اثاثے ہیں۔
نئی دہلی میں بھارت منڈپم میں منعقدہ 2026 برکس سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پرابوو نے برکس ممالک میں موجود وسیع قدرتی وسائل کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ یہ وسائل پائیدار ترقی کی جانب عالمی منتقلی میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کی صورتحال ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہے اور ان کے پاس اہم معدنیات اور توانائی کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جو سبز صدی کی بنیاد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انڈونیشین صدر نے بتایا کہ ان کا ملک اہم معدنیات، نایاب ارضی دھاتوں، نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے وسائل، جدید تکنیکی صلاحیتوں اور وسیع جنگلات سے مالا مال ہے، جو ماحولیاتی پائیداری کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
صدر پرابوو نے برکس ممالک اور ان کے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ قدرتی آفات کو محض الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ انہیں موسمیاتی لچک اور قومی ترقی کے وسیع تر تناظر میں سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں لچک اور قومی ترقی کے درمیان قریبی تعلق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق انڈونیشیا موسمیاتی چیلنجز کا سامنا کرنے والا واحد ملک نہیں بلکہ برکس کے متعدد ارکان اور عالمی جنوب کے ممالک بھی اسی نوعیت کے مسائل سے دوچار ہیں۔
انہوں نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے برکس ممالک کے درمیان اجتماعی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ وسائل، پیداواری صلاحیت، تکنیکی استعداد اور منڈیوں کو یکجا کرکے ان مسائل کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
صدر پرابوو کے مطابق یہ تعاون 2026 برکس سربراہی اجلاس کے موضوع “لچک، جدت، تعاون اور پائیداری: جامع عالمی ترقی کے لیے مستقبل کی تشکیل” سے بھی ہم آہنگ ہے، جس میں لچک کو مضبوط بنانے، جدت کو فروغ دینے، باہمی تعاون بڑھانے اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کے حصول پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ طور پر چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے برکس ممالک اپنے وسیع وسائل، پیداواری صلاحیت، تکنیکی استعداد اور منڈیوں کو بروئے کار لاسکتے ہیں۔
انڈونیشین صدر نے زور دیا کہ برکس ممالک کی مشترکہ طاقت اور صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرکے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں نمایاں کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پہلا قدم اپنی اجتماعی طاقت کی اہمیت کو تسلیم کرنا اور اسے ایک دوسرے کی مدد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔