انڈونیشیا

انڈونیشیا نے چین کو 100 گیگاواٹ شمسی توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی

Read Time:2 Minute, 24 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے رابطہ کار وزیر برائے اقتصادی امور ایئرلنگا ہارتارتو نے چینی کمپنیوں کو انڈونیشیا میں 100 گیگاواٹ مجموعی صلاحیت کے حامل شمسی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، جس کا مقصد ملک میں صاف توانائی کے فروغ اور صنعتی ترقی کو تیز کرنا ہے۔

ایئرلنگا ہارتارتو نے یہ دعوت شنگھائی میں چین کے وزیر تجارت وانگ وین تاؤ کے ساتھ جمعہ کی شام ہونے والی دوطرفہ ملاقات کے دوران دی۔

بیان کے مطابق 100 گیگاواٹ شمسی توانائی کا یہ بڑا منصوبہ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد توانائی کے شعبے میں منتقلی، صنعتی ویلیو ایڈیشن (ڈاؤن اسٹریمینگ) کو فروغ دینا اور صاف توانائی کے استعمال میں اضافہ کرنا ہے۔ انڈونیشیا کی وزارت توانائی و معدنی وسائل نے اس منصوبے کو 2029 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ہارتارتو نے کہا کہ سیراتا فلوٹنگ سولر پاور پلانٹ کی تعمیر میں چین کی سرمایہ کاری انڈونیشیا اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں مضبوط تعاون کی بہترین مثال ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ صاف توانائی کے فروغ، توانائی کی منتقلی اور کاربن اخراج میں کمی کے مشترکہ اہداف کے حصول میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی وسیع صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں موجود شمسی پینل کی صنعت کو مزید مضبوط اور توسیع دی جا سکتی ہے تاکہ سولر انڈسٹری کے لیے ایک جامع اور مربوط مقامی سپلائی چین قائم کی جا سکے۔

وزیر اقتصادی امور نے بتایا کہ توانائی کے شعبے کے علاوہ چین بدستور انڈونیشیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2025 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 154.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ 2021 سے 2025 کے عرصے میں تجارت کی اوسط سالانہ شرح نمو 7.24 فیصد رہی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چین انڈونیشیا میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے تین بڑے ذرائع میں بھی شامل ہے۔ 2025 میں چین کی سرمایہ کاری تقریباً 8.1 ارب امریکی ڈالر رہی، جو ملک میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا تقریباً 13 فیصد بنتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری بنیادی طور پر مینوفیکچرنگ، تجارت، توانائی، جائیداد، ٹرانسپورٹ اور گودام کے شعبوں میں کی گئی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ٹو کنٹریز ٹوئن پارکس (TCTP) فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید فروغ دینے، دوطرفہ تجارت میں توازن پیدا کرنے کے لیے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے اور ریجنل کمپری ہینسیو اکنامک پارٹنرشپ (RCEP) کے سیکریٹریٹ کی انڈونیشیا میں میزبانی کے لیے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

آئندہ اے پیک 2026 سربراہی اجلاس سے قبل ایئرلنگا ہارتارتو نے چین کی صدارت کے لیے انڈونیشیا کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک ایسے ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی کریں گے جن کا باضابطہ اعلان آئندہ دوطرفہ سربراہان کی ملاقات کے دوران کیا جا سکے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ویتنام Previous post ویتنام اور یونان کا دوطرفہ تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق، اعلیٰ سطحی روابط بڑھانے پر زور
دوشنبے Next post دوشنبے میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے صنعت کا چوتھا اجلاس 22 اور 23 ستمبر کو منعقد ہوگا