پنجاب

پنجاب کے تمام اضلاع میں انٹیگریٹڈ سیف سٹی نیٹ ورک قائم، جرائم میں 80 فیصد کمی کا دعویٰ

Read Time:3 Minute, 20 Second

لاہور، یورپ ٹوڈے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعہ کو پنجاب انٹیگریٹڈ سیف سٹی نیٹ ورک کا ڈیجیٹل افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد شہریوں کو جرائم کے خوف سے نجات دلانا اور صوبے میں امن و امان کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مؤثر بنانا ہے۔

پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں انٹیگریٹڈ سیف سٹی نیٹ ورک تمام 41 اضلاع اور دو تحصیلوں تک توسیع پا چکا ہے۔ تقریب کے دوران حکام نے بتایا کہ پولیس، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اور سیف سٹیز اتھارٹی کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں تقریباً 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سیف سٹیز اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر احسن یونس نے وزیراعلیٰ کو انٹیگریٹڈ اسمارٹ سیف سٹیز نیٹ ورک کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے پورے صوبے میں مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیٹ ورک میں ذہین نگرانی، ایمرجنسی ہیلپ لائن 15، ٹریفک مینجمنٹ، ریئل ٹائم کمانڈ اینڈ کنٹرول اور پیش گوئی پر مبنی پولیسنگ سمیت متعدد جدید سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن، چائلڈ سیفٹی سینٹر، بلڈ بینک اور ٹریفک و ماحولیاتی خدمات بھی نظام کا حصہ ہیں۔

منیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ صوبے بھر میں مزید 1,500 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے جبکہ ہر تھانے کو بھی پینک بٹن کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ عوامی مقامات پر اسمارٹ اسکرینیں بھی نصب کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں کے ذریعے چہروں کی شناخت اور ہتھیاروں کی نشاندہی ممکن ہوگی، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی اور کارروائی کی صلاحیت مزید مؤثر بنائی جا سکے گی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سیف اسمارٹ سٹیز منصوبے کو صوبے کی ہر یونین کونسل تک توسیع دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ٹیکنالوجی، اسمارٹ پولیسنگ اور پیش گوئی پر مبنی پولیسنگ کے شعبوں میں سبقت لے جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران پنجاب کے ہر ضلع کو سیف سٹی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’پورے پنجاب کو ایک ہی اسکرین پر دیکھنا کوئی معمولی کامیابی نہیں‘‘، اور صوبہ ٹیکنالوجی پر مبنی تحفظ و سلامتی کے حوالے سے قومی سطح پر قائدانہ حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام، اسمارٹ نگرانی اور پیش گوئی پر مبنی پولیسنگ کے ذریعے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں پنجاب کے 70 سے زائد علاقے نو گو ایریاز تصور کیے جاتے تھے، جہاں غروب آفتاب کے بعد عوام کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دریائی علاقوں سمیت پنجاب میں کوئی نو گو ایریا موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دریائی علاقے میں تقریباً 10 ماہ سے سنگین جرائم یا تاوان کے لیے اغوا کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں کرکٹ ٹورنامنٹ بھی منعقد کیا، جو امن و امان کی صورتحال میں غیر معمولی بہتری کی علامت ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومت دریائی علاقے میں 30 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے لا رہی ہے، جن میں صحت عامہ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے، تاکہ ان علاقوں کو پنجاب کے شہروں کے برابر ترقی دی جا سکے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ ورچوئل پولیس اسٹیشن کے ذریعے اب تک 11 لاکھ خواتین کو سہولت اور ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے صوبے بھر میں پینک بٹن کی تعداد مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے خواتین اور بچوں میں تحفظ کا احساس مزید مضبوط ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی حکومت ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے فکرمند ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
زرداری Previous post صدر زرداری کا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی کوششوں کا خیرمقدم
عاصم منیر Next post آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے پاک فوج کے سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ