
ایران مذاکرات کی پاکستان میں بحالی کا امکان، جلد پیش رفت متوقع: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آئندہ دو روز میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، جس سے جاری سفارتی عمل میں اہم پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
امریکی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دنوں میں اہم پیش رفت ممکن ہے اور امریکا پاکستان میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی طرف زیادہ مائل ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک “شاندار قیادت” قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان ایک موزوں مقام ہے، کیونکہ وہاں کی قیادت اس عمل میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک میں جانے کی ضرورت نہیں جو اس معاملے سے براہِ راست وابستہ نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود رواں ہفتے اسلام آباد واپس آ سکتے ہیں تاکہ تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، جس کے بعد امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر دی تھی۔
اگرچہ اس اقدام پر تہران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، تاہم سفارتی رابطوں کے جاری رہنے کے اشاروں نے عالمی تیل منڈیوں کو وقتی طور پر استحکام فراہم کیا، جس کے نتیجے میں قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں۔
1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا اہم مرحلہ تھا، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے، جس سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جس میں ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس ہفتے کے اختتام تک دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہو سکتے ہیں اور اس حوالے سے ایک تجویز واشنگٹن اور تہران کو ارسال کی جا چکی ہے۔ ایک ایرانی ذریعے نے بتایا کہ حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی، تاہم جمعہ سے اتوار کے درمیان کسی بھی وقت مذاکرات ممکن ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور پیش رفت ہو رہی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے پیر کے روز رابطہ کیا اور معاہدہ کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم امریکا ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت ہو۔