
روس عالمی توانائی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا، روسی وزیر توانائی
ماسکو، یورپ ٹوڈے: روس کے وزیر توانائی سرگئی تسیویلیف نے کہا ہے کہ روس عالمی توانائی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا اور اسے عالمی توانائی سپلائی چینز سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے یہ بات امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں جی20 انرجی ابونڈنس وزارتی اجلاس سے قبل روسی خبر رساں ادارے تاس (TASS) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
تین روزہ جی20 توانائی اجلاس 14 سے 16 ستمبر تک امریکی صدارت میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں عالمی توانائی سلامتی، توانائی کی قابلِ برداشت قیمتوں، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور لچکدار سپلائی چینز سمیت مختلف امور پر غور کیا جا رہا ہے۔
سرگئی تسیویلیف نے کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کو عالمی سپلائی چینز سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ روس توانائی وسائل کا قابلِ اعتماد سپلائر اور توانائی سلامتی کا ضامن رہا ہے، ہے اور بلاشبہ مستقبل میں بھی رہے گا۔‘‘
روسی وزیر توانائی نے کہا کہ روس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ کوئلے کے ذخائر اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار کے حوالے سے بھی روس دنیا کے سرکردہ ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے جوہری توانائی کے شعبے میں بھی روس کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ روس جوہری ٹیکنالوجیز فراہم کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے اور جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کی عالمی منڈی میں اس کا نمایاں حصہ ہے۔
تسیویلیف کے مطابق جی20 اجلاس میں روس کھلی توانائی تجارت پر مبنی مؤقف کی حمایت کر رہا ہے، جس میں پابندیوں یا دیگر رکاوٹوں کے بغیر توانائی کی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ ان کے بقول اس طرزِ عمل سے عالمی توانائی سلامتی اور اقتصادی استحکام کو تقویت مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی بلا رکاوٹ تجارت سے توانائی وسائل ان علاقوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، جبکہ سپلائی میں رکاوٹ کے خطرات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔
روسی وزیر نے بین الاقوامی توانائی منڈیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا بھی حوالہ دیا، خصوصاً آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ و یوکرین کے وسیع تر تنازعات سے منسلک صورتحال کا۔ جی20 اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی رسد اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
روسی حکام نے ہیوسٹن اجلاس میں روس کی شرکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ روسی وفد میں توانائی، خارجہ امور اور قدرتی وسائل کی وزارتوں کے نمائندگان شامل ہیں۔
دریں اثنا، کریملن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے روکنے کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس تجویز کو مثبت خیال قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
ہیوسٹن میں ہونے والے جی20 اجلاس کے ایجنڈے میں توانائی سلامتی، قابلِ برداشت بنیادی توانائی کی فراہمی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مؤثر ضابطہ کاری اور اہم معدنیات کی لچکدار اور متنوع سپلائی چینز سمیت متعدد امور شامل ہیں۔