پاکستان

پاکستان کا لیبیا کی عدالتی خودمختاری کے احترام پر زور، بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مبینہ جنگی مجرم کے خلاف ٹرائل کا آغاز

Read Time:3 Minute, 9 Second

اقوام متحدہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے لیبیا کی قیادت میں سیاسی عمل ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

یہ بیان اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اسیم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں “لیبیا (بین الاقوامی فوجداری عدالت)” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے دیا، جہاں لیبیا کے جنگی جرائم کے ایک مشتبہ ملزم کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت میں پہلی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگرچہ پاکستان 1988 کے روم اسٹیٹوٹ، جس کے تحت 2002 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت قائم کی گئی، کا فریق نہیں ہے، تاہم پاکستان سنگین جرائم کے لیے قابلِ اعتماد اور غیرجانبدارانہ احتساب کے اصول پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی احتسابی نظام کی ساکھ اور قانونی حیثیت اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے جب بین الاقوامی قانون کا یکساں اطلاق اور انصاف و غیرجانبداری کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔

واضح رہے کہ خالد محمد علی الہشری کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بین الاقوامی فوجداری عدالت کی اس تحقیقات کا حصہ ہیں جو 2011 میں سابق لیبی رہنما معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد لیبیا میں ہونے والے جرائم کے حوالے سے شروع کی گئی تھیں۔

اسیم افتخار احمد نے خالد محمد علی الہشری کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1970 (2011) پر مؤثر عمل درآمد کے لیے عدالت اور لیبی حکام کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ اس قرارداد کے تحت لیبیا کی صورتحال کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سپرد کیا گیا تھا، جبکہ معمر قذافی اور ان کے قریبی ساتھیوں پر سفری پابندیاں، اثاثے منجمد کرنے اور اسلحہ پابندی سمیت مختلف اقدامات کیے گئے تھے۔

پاکستان نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی نظام انصاف پر اعتماد کے فروغ کے لیے مستقل مزاجی، معروضیت اور غیرانتخابی رویہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کے دفتر اور متعلقہ لیبی اداروں کے درمیان تعمیری روابط کو جاری رکھا جائے، تاہم اس عمل میں لیبیا کی عدالتی خودمختاری، قومی اداروں اور جائز تحفظات کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ملکیت اور استعداد کار میں اضافہ تمام احتسابی اقدامات کا بنیادی ستون ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان ان تمام لیبی اقدامات کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد عدالتی وحدت، قانون کی حکمرانی اور آئینی نگرانی کو مضبوط بنانا ہے۔

سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان نے کہا کہ حالیہ عدالتی کارروائیوں، بالخصوص علی الہشری کی توثیقی سماعت، نے متاثرین کو کسی حد تک انصاف اور ذہنی سکون فراہم کیا ہے۔ انہوں نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور تارکین وطن کے خلاف زیادتیوں کے ذمہ دار عناصر کی گرفتاری اور احتساب کے لیے مزید بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔

ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کی جانب سے عدالت میں دیے گئے بیانات نے متاثرین کو انصاف کی امید دی ہے۔ ان بیانات میں خواتین نے تشدد، جنسی زیادتی، بالوں سے گھسیٹنے اور خون بہنے تک مارپیٹ جیسے ہولناک مظالم کا ذکر کیا۔

نزہت شمیم خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی ویزا جاری نہ ہونے کے باعث سلامتی کونسل کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کی “لیبیا یونیفائیڈ ٹیم” مختلف علاقوں میں موجود ہے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1970 (2011) کے قانونی فریم ورک کے تحت شواہد اور معلومات جمع کر رہی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کانفرنس Previous post دوشنبے میں عالمی آبی تعاون کے فروغ کے لیے چوتھی اعلیٰ سطحی کانفرنس کی تیاریاں جاری
یوکرین Next post روس-یوکرین تنازع کے حل کے لیے فوری جنگ بندی اور مذاکرات ناگزیر ہیں، پاکستان