زرداری

صدر آصف علی زرداری کا بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مکالمے، بہتر حکمرانی اور ترقیاتی اقدامات پر زور

Read Time:2 Minute, 59 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے منگل کے روز بلوچستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے، بہتر طرز حکمرانی، روابط کے فروغ اور مؤثر آبی انتظام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے استحکام اور ترقی کے بغیر پاکستان کی مجموعی ترقی ممکن نہیں۔

ایوانِ صدر میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان-19 کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ صوبے میں ایسا ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے جہاں عوام کو روزگار اور ترقی کے مواقع میسر ہوں تاکہ وہ نقل مکانی پر مجبور نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم اس کی پائیدار ترقی کے لیے قلیل مدتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔

صدر نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بلوچستان کا دیگر علاقوں سے رابطہ بہتر ہوا ہے اور دریائے سندھ پر متعدد پلوں کی تعمیر نے صوبے کو ملک کے مختلف حصوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پانی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہروں کی لائننگ کے منصوبوں کے ذریعے پانی کے ضیاع کو کم کیا جا رہا ہے اور زراعت و معدنی سرگرمیوں کے لیے پانی کا تحفظ ناگزیر ہے۔

انہوں نے آبی تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں علاقائی سطح پر تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں تاجکستان کے ساتھ آبی تعاون بھی شامل ہے تاکہ بلوچستان کی آبپاشی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

گوادر بندرگاہ کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ان کا وژن ہے کہ اس کی ترقی کے ثمرات مقامی قبائل اور برادریوں تک پہنچیں، خصوصاً ان علاقوں تک جو گوادر سے منسلک شاہراہوں کے اطراف واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سازگار سرمایہ کاری ماحول فراہم کیا جائے تو گوادر ایک بڑا معاشی مرکز بن سکتا ہے۔

صدر مملکت نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے قومی یکجہتی اور سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مکالمہ اور جمہوری عمل ہی مسائل کا واحد مؤثر حل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کسی بھی بحران کا حل نہیں اور تمام فریقین کو مشاورت اور تعاون کے ذریعے اختلافات ختم کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پیدا ہونے والے مواقع سے بلوچستان کے عوام کو بھرپور فائدہ پہنچنا چاہیے، کیونکہ یہ منصوبہ صوبے کو علاقائی اور عالمی منڈیوں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے وسائل کے مؤثر استعمال، سرمایہ کاری دوست ماحول، نوجوانوں کی ترقی، زرعی جدیدیت اور چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت ضروری ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی چیلنجز سے ذمہ داری کے ساتھ نمٹنے پر زور دیتے ہوئے غیر ملکی شہریوں، خصوصاً چینی اساتذہ اور کارکنوں پر حملوں کو افسوسناک اور پاکستان کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور بلوچستان و سندھ کی بندرگاہیں قومی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جن سے دیگر صوبے بھی مستفید ہوں گے۔

صدر مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کا استحکام پاکستان کی ترقی سے جڑا ہوا ہے اور حکومت صوبے کی ترقی اور قومی دھارے میں شمولیت کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرتی رہے گی۔

اجلاس میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، رکن قومی اسمبلی سردار یار محمد رند اور خالد مگسی نے شرکت کی، جبکہ ورکشاپ کی کارروائی کی نگرانی بریگیڈیئر بلال غفور، کمانڈر سگنلز 12 کور نے کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
وینس Previous post امریکا ایران سے جامع معاہدہ چاہتا ہے، جنگ بندی برقرار ہے: جے ڈی وینس
ایران Next post صدر زرداری کی وزیراعظم اور اسحاق ڈار کو امریکا، ایران کے ساتھ فعال سفارتی روابط جاری رکھنے کی ہدایت