
صدر امام علی رحمان کی زیر صدارت تاجکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی سے متعلق کونسل کا پہلا اجلاس
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر اور قوم کے رہنما امام علی رحمان نے بدھ کو صدرِ جمہوریہ تاجکستان کے تحت ڈیجیٹل معیشت کی ترقی سے متعلق کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں کونسل کے ارکان کے علاوہ متعلقہ وزارتوں اور سرکاری اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں تاجکستان میں 2026ء سے 2030ء تک ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے وسط مدتی پروگرام پر عملدرآمد کے ترجیحی شعبوں اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے ’’عوامی خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیٹا ذخائر کے انضمام‘‘ سے متعلق تجویز پر بھی غور کیا۔
صدر امام علی رحمان نے کہا کہ کونسل کا قیام قومی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے، عوامی انتظامیہ کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینے کی حکومتی پالیسی کا منطقی تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2025ء سے 2030ء کو ’’ڈیجیٹل معیشت اور جدت کے فروغ کے سال‘‘ قرار دینے اور 2026ء سے 2030ء کیلئے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے وسط مدتی پروگرام کی منظوری سے ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ضروری بنیاد فراہم ہوئی ہے۔
صدر نے زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن کا بنیادی مقصد عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا، شہریوں اور کاروباری افراد کا وقت بچانا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا، حکومتی امور میں شفافیت بڑھانا اور قومی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اگرچہ مختلف معلوماتی نظام اور الیکٹرانک خدمات متعارف کرائی گئی ہیں، تاہم نظاموں کے الگ الگ کام کرنے، معلومات بار بار طلب کرنے، کاغذی کارروائی اور بعض منصوبوں کے نتائج سے متعلق غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔
اس تناظر میں نظاموں کے انضمام، ذاتی معلومات کے تحفظ، سائبر سکیورٹی، اخراجات میں شفافیت اور معلومات صرف ایک مرتبہ فراہم کرنے کے اصول پر عملدرآمد کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیر اعظم اور کونسل کے نائب چیئرمین حکیم خلیق زودہ نے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے وسط مدتی پروگرام پر عملدرآمد کے ترجیحی شعبوں اور اقدامات کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔
ریاستی کمیٹی برائے سرمایہ کاری و سرکاری املاک کے چیئرمین سلطان رحیم زودہ نے ڈیجیٹل منصوبوں کیلئے سرمایہ کاری کے حصول اور مالی معاونت کے طریقہ کار پر بریفنگ دی، جبکہ وزیر تعلیم و سائنس رحیم سعید زودہ نے انسانی وسائل کی ترقی اور عوام میں ڈیجیٹل خواندگی بہتر بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
ایجنسی برائے جدت و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ڈائریکٹر خورشید مرزا نے عوامی خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیٹا ذخائر کے انضمام سے متعلق تجاویز پیش کیں۔
بحث کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ ہر ڈیجیٹلائزیشن منصوبے کو واضح نتیجے، تکمیل کی مقررہ مدت، مالی وسائل کے ذریعے اور متعلقہ حکام کی متعین ذمہ داری سے منسلک کیا جائے۔ 2027ء سے 2030ء تک سالانہ اہداف اور حتمی نتائج مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبوں کی غیر ضروری تکرار اور بلاجواز مالی اعانت سے گریز کیا جائے۔
صدر امام علی رحمان نے ڈیجیٹل تبدیلی کیلئے چار بنیادی اصول وضع کیے: عوام اور معیشت کیلئے قابلِ پیمائش نتائج کا حصول، متحدہ ڈیجیٹل حکومت کا قیام، معلومات صرف ایک مرتبہ فراہم کرنے کے اصول کا نفاذ، اور تمام شہریوں کیلئے عوامی خدمات تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا۔
ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کیلئے ترجیحی شعبوں میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کے انتظام کیلئے متحدہ نظام کا قیام، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی، قومی ڈیٹا نظام کی تشکیل اور ریاستی رجسٹریوں کا انضمام، عوامی خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، حقیقی معیشت اور سماجی شعبوں کی ڈیجیٹلائزیشن، انسانی سرمائے، ڈیجیٹل کاروبار اور جدت کا فروغ، سرمایہ کاری کا حصول، مصنوعی ذہانت کا استعمال اور سائبر سکیورٹی کو یقینی بنانا شامل ہیں۔
مرکزی اور مقامی انتظامی اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ڈیجیٹل نظاموں کے رابطہ اور فروغ کیلئے تکنیکی ذمہ دار افسران مقرر کریں اور ایجنسی برائے جدت و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ساتھ قریبی تعاون یقینی بنائیں۔
عوامی خدمات فراہم کرنے والے سرکاری اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی خدمات کو متحدہ پورٹل میں شامل کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں اور انہیں مکمل طور پر الیکٹرانک شکل میں فراہم کریں۔ صدر نے ہدایت کی کہ کسی بھی عوامی خدمت کو ڈیجیٹل بنانے سے قبل اس کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے اور غیر ضروری تقاضوں، اضافی دستاویزات اور مختلف اداروں کے غیر ضروری چکروں کا خاتمہ کیا جائے۔
ایجنسی برائے جدت و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو وزارت انصاف اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے ساتھ مل کر ترجیحی عوامی خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کیلئے مرحلہ وار منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
کمیونیکیشن سروس اور متعلقہ حکام کو قومی مواصلاتی ترقیاتی منصوبے پر مکمل اور بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، جس میں بالخصوص دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات کے معیار اور رسائی کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کا کہا گیا۔
کسٹمز سروس کو ایجنسی برائے جدت و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، وزارت خزانہ، ٹیکس کمیٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مکمل کاغذ سے پاک طریقہ کار کی جانب منتقلی کیلئے روڈ میپ تیار اور نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزارتوں اور اداروں کو ڈیجیٹل منصوبوں کیلئے نجی سرمایہ کاری کے حصول اور ڈیجیٹل کاروبار کے فروغ کیلئے تجاویز پیش کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔
صدر امام علی رحمان نے زور دیا کہ ریاستی معاونت شفاف، مسابقتی اور نتائج پر مبنی ہونی چاہیے، جبکہ ملکی کمپنیوں اور جدید مصنوعات کے فروغ کیلئے مزید مواقع پیدا کیے جائیں۔
وزارت تعلیم و سائنس کو وزارت محنت، ہجرت و روزگار، متعلقہ فنی و پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر تربیت اور دوبارہ تربیت کے پروگراموں کو لیبر مارکیٹ کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے ساتھ عوام میں ڈیجیٹل خواندگی بہتر بنانے کیلئے اقدامات مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
ایجنسی برائے جدت و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر قومی معیشت میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور سائبر سکیورٹی کے استحکام سے متعلق تجاویز تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وزارتوں اور سرکاری اداروں کے سربراہان کی کارکردگی کا جائزہ ڈیجیٹلائزیشن کے نتائج کی بنیاد پر لیا جائے۔ صدر نے واضح کیا کہ حکام نظاموں کے انضمام، ڈیٹا کے معیار، خدمات کو آسان بنانے، مالی وسائل کے مؤثر استعمال اور ڈیجیٹل منصوبوں کے ٹھوس نتائج کیلئے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔
اجلاس کے اختتام پر صدر امام علی رحمان نے کہا کہ کونسل کو اسٹریٹجک فیصلوں کیلئے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتے ہوئے اداروں کے درمیان رکاوٹیں دور کرنے اور ڈیجیٹل تبدیلی کے نتائج کی سخت نگرانی یقینی بنانی چاہیے۔