
وزیراعظم شہباز شریف کی ’اپنا گھر اسکیم‘ کے تحت قرضوں کی منظوری کا عمل مزید تیز اور آسان بنانے کی ہدایت
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘ کے تحت قرضوں کی منظوری کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اپنے گھر کی ملکیت کا خواب پورا کر سکیں۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اسکیم کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے اسکیم کو ملنے والا بھرپور ردعمل انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ سستے رہائشی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کا عکاس ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’’اپنا گھر اسکیم میں بڑی تعداد میں شہریوں کی شرکت خوش آئند ہے۔ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کے لیے گھر کی ملکیت کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کی کامیابی نہ صرف رہائش تک رسائی بہتر بنائے گی بلکہ تعمیراتی شعبے کو فروغ دے گی، اس سے وابستہ صنعتوں کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگی اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرے گی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وزارتِ ہاؤسنگ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر درخواست فارم کو مزید صارف دوست اور آسان بنائے تاکہ درخواست دہندگان کو اسے سمجھنے اور مکمل کرنے میں سہولت ہو۔ انہوں نے بینکوں کو بھی ہدایت کی کہ درست درخواستوں کی منظوری کا عمل تیز کیا جائے اور قرضوں کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم نے ملک گیر آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل شہری اس پروگرام سے استفادہ کر سکیں۔
زمین کی ملکیت سے متعلق دستاویزات کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ہر ضلع میں ’اپنا گھر اسکیم‘ کے لیے خصوصی سہولت مراکز (فیسلیٹیشن ڈیسک) قائم کیے جائیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک اس پروگرام کے تحت 11 ارب روپے مالیت کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق رواں سال مارچ میں اسکیم کے قواعد و ضوابط کو آسان بنانے کے بعد درخواستوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر سے مجموعی طور پر 67 ہزار 900 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے 16 ہزار 587 درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 3 ہزار 146 مستفید افراد کو قرضوں کی ادائیگی بھی کی جا چکی ہے۔
حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل ہبز، فیسلیٹیشن ڈیسک اور دیگر انتظامی اقدامات کے ذریعے رعایتی ہاؤسنگ فنانس کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کے لیے لازم قرار دیا ہے کہ وہ ’اپنا گھر اسکیم‘ کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں پر 15 روز کے اندر کارروائی مکمل کریں۔
شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ نے حال ہی میں کنڈومینیم اور مالیاتی اداروں کی ریکوری سے متعلق قوانین منظور کیے ہیں، جن سے ہاؤسنگ سیکٹر میں موجود قانونی رکاوٹیں دور ہوں گی اور سرمایہ کاری و ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ اسکیم کے نفاذ اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال چیمہ، میاں ریاض حسین پیرزادہ اور شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، مختلف پاکستانی بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران، صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔