شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی ایک بار پھر پیشکش، اختلافات گفت و شنید سے حل کرنے پر زور

Read Time:2 Minute, 31 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے ہفتہ کے روز ایک بار پھر پارلیمان میں اپوزیشن رہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کا واحد راستہ باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں بھی چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی کی متعدد بار پیشکش کی، تاہم ان کی مخلصانہ کوششوں کو قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کا احترام کرتے ہیں جن میں محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر علی خان شامل ہیں۔

وزیراعظم نے ایوان میں موجود اپوزیشن بنچوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "میں موجود ہوں، معاملات درست کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔”

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان ملک کے چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتا ہے اور اسے ایک گھر کی مانند سمجھنا چاہیے، جہاں مختلف سوچ اور نظریات رکھنے کے باوجود سب کا مقصد پاکستان کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے تاکہ ملک کی عزت و وقار عالمی برادری میں بلند ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی وسائل پر کسی قسم کا تنازع موجود نہیں، ہر صوبے کے عوام کا اپنے وسائل پر حق تسلیم شدہ ہے۔ انہوں نے ریکوڈک معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ صوبائی قیادت اور عوام کی مشاورت سے طے پایا جو ایک روشن مثال ہے۔

انہوں نے 2010 کے تاریخی این ایف سی ایوارڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت بلوچستان کے حصے میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ اس وقت پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے کی فراہمی سمیت دیگر صوبوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔

وزیراعظم نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں سولرائزیشن کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ گوادر سے چمن تک 300 ارب روپے کی لاگت سے سڑک کی تعمیر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی اپوزیشن مطالبے پر نہیں بلکہ بطور وزیراعظم ان کی ذمہ داری کا حصہ تھا تاکہ تمام صوبے یکساں ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔

وزیراعظم نے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہیلی کاپٹر حادثے میں 22 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جن میں دو عملے کے ارکان مسیحی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کو بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہے اور اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے ڈیورنڈ لائن کی باڑ کو ملک و قوم کی سلامتی کے لیے درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بچے کی جان بھی بچتی ہے تو سرحدی باڑ پر اخراجات درست ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء نے اپنے بچوں کو یتیم چھوڑا لیکن قوم کے لاکھوں بچوں کو محفوظ بنایا، اس لیے ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال