
یومِ آزادی پر وزیراعظم شہباز شریف کا دوٹوک پیغام: امن، وقار اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خلوصِ دل سے امن کا خواہاں ہے تاہم اس کی امن کی خواہش کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو درپیش کسی بھی آئندہ چیلنج کا جواب مئی 2025ء کی معرکہ حق میں حاصل ہونے والی فیصلہ کن فتح سے بھی زیادہ بھرپور قوت سے دیا جائے گا۔
وہ جمعرات کو پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر معرکہ حق 2025ء کے دوران شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور تاریخی کامیابی کی یاد میں تعمیر کیے گئے یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، وفاقی وزراء، صوبائی سیاسی قیادت، ارکان پارلیمنٹ، سفارت کار اور مسلح افواج کے افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا بلکہ امن کا خواہاں ہے، تاہم یہ امن عزت، وقار اور خودداری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا ضامن بننے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مئی 2025ء کی معرکہ حق نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور ساکھ میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی نے اب بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھا تو اسے اپنی شکست یاد رکھنی چاہیے اور مستقبل میں اگر کسی نے پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو اسے مئی 2025ء سے بھی زیادہ فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ امن کا خواہاں نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی کا ایک ایک قطرہ سرخ لکیر ہے اور اگر بھارت نے اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کیا تو اسے مناسب جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے ہمراہ یادگارِ فتح کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ یادگار قومی عزم، مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور دشمن پر ان کی برتری کی زندہ علامت ہے۔
انہوں نے یادگار کی تعمیر میں رہنمائی اور کردار پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کیا جبکہ مزدوروں، انجینئرز اور منصوبے سے وابستہ پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے صرف آٹھ ماہ کی مختصر مدت میں منصوبہ مکمل کیا۔
وزیراعظم نے معرکہ حق میں تاریخی کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ اور متاثر کن قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جس کے تحت پاکستان نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔
انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ اور چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی قیادت میں پاک بحریہ کے شاندار کردار کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یادگارِ فتح محض اینٹوں اور پتھروں سے بنی عمارت نہیں بلکہ یہ ان شہداء کو خراجِ عقیدت ہے جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان غازیوں کی بہادری کی علامت ہے جنہوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور اس عظیم قوم کو خراجِ تحسین ہے جس نے مشکل ترین وقت میں اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے اور پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا، ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گا اور بھارتی جبر سے آزادی کے لیے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق نہیں مل جاتا۔
افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے مکمل طور پر روکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں بھی امن اور استحکام چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ناقابلِ قبول ہے۔ دونوں ممالک ہمسایہ ہیں اور افغان قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے ہر صورت روکے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیا، جس میں بعد ازاں ترکیہ بھی شامل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ضمانت اور مسلم دنیا کے لیے امید کی علامت ہے، جبکہ پوری دنیا کے لیے بھی امن کا پیغام ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے حصول میں بروقت اور مؤثر کردار پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جدید علوم بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں مہارت حاصل کریں۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت نوجوانوں کو اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے قوم پر زور دیا کہ وہ معرکہ حق کے دوران مظاہرہ کی گئی قومی یکجہتی کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے کا عہد کرے۔
انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ باہمی اختلافات کو بھلا کر نفرتوں کو دفن اور محبت کو فروغ دیا جائے۔ پاکستان سب کا ہے، ہم سب اس کے وارث بھی ہیں اور ذمہ دار بھی۔ اختلافِ رائے بنیادی حق ہے، لیکن جب اختلافِ رائے دشمنی میں بدل جائے تو قومی طاقت کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔