مریم نواز

وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب کی جیلوں کو جدید اصلاحی مراکز میں تبدیل کرنے کا حکم، جامع اصلاحات کی منظوری

Read Time:3 Minute, 56 Second

لاہور، یورپ ٹوڈے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کی جیلوں کو محض قید خانے نہیں بلکہ حقیقی اصلاحی اور بحالی مراکز میں تبدیل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے قیدیوں کی فلاح، جیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات کا حکم دیا ہے۔

جمعہ کے روز جیل اصلاحات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کے مسئلے کے حل اور نظام کو جدید بنانے کے لیے تفصیلی منصوبہ پیش کیا گیا۔

اجلاس میں زیر تعمیر ننکانہ صاحب جیل سے متعلق ویڈیو رپورٹ پیش کی گئی، جس پر وزیراعلیٰ نے منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے ایک ارب 30 کروڑ روپے کی منظوری دیتے ہوئے ننکانہ صاحب اور سمندری جیلوں کو ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

مریم نواز شریف نے قید خواتین کے ساتھ رہنے والے بچوں کے لیے معیاری بستروں، کھیل کے میدانوں، فنی تربیت اور باقاعدہ تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے نوعمر قیدیوں کی جیلوں کو اپ گریڈ کرنے اور قیدیوں کے لیے جدید سزا میں رعایت (Remission) مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی بھی منظوری دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جیلوں میں گنجائش کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 27 نئی بیرکیں تعمیر کی جا رہی ہیں جبکہ چنیوٹ اور مری میں نئی جیلوں پر بھی کام جاری ہے۔

وزیراعلیٰ نے قیدیوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی 30 جیل وینز کو جدید، ائیرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں تبدیل کرنے کی ہدایت دی، جن میں واش روم، کیمرہ اسکرینز اور آرام دہ نشستیں فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے مرد قیدیوں کی بیرکوں میں گدوں کی فراہمی اور قیدیوں کو دیے جانے والے کھانے کے معیار کی باقاعدہ جانچ کے احکامات بھی جاری کیے۔ اجلاس میں قیدیوں کے لیے ہفتہ وار غذائی منصوبہ پیش کیا گیا جبکہ بتایا گیا کہ جیلوں میں فلاحی اسٹورز بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ قید خواتین اور چھ سال تک کے بچوں کے لیے اضافی غذائی سپلیمنٹس بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں جدید خواتین جیلیں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ قیدیوں کے اہل خانہ کے لیے انتظار گاہوں، ٹرانسپورٹ کارٹس اور فیملی رومز کی بحالی بھی جاری ہے۔

حکام نے بتایا کہ فیصل آباد اور بہاولپور کے بورسٹل اداروں میں زیر حراست بچوں کی تعلیم اور سماجی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب لٹریسی پروگرام کے تحت 4,141 قیدیوں کو تعلیمی پروگراموں میں داخل کیا گیا ہے، جبکہ "ون بیرک، ون لائبریری” پالیسی کے تحت 472 قیدی میٹرک، 367 انٹرمیڈیٹ اور 140 گریجویشن مکمل کر چکے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کی 15 جیلوں میں مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ جیل انڈسٹریز فعال ہو چکی ہیں، جہاں قیدی فرنیچر، قالین، ٹف ٹائلز، میلامائن کراکری، بیوٹی صابن، فینائل، واشنگ پاؤڈر، ایل ای ڈی لائٹس، فٹ بال، دستانے اور ملبوسات تیار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں موبائل فون، موٹر سائیکل اور ٹریکٹر مرمت، کمپیوٹر، ویلڈنگ اور کوکنگ سمیت مختلف شعبوں میں عملی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

حکام نے بتایا کہ جیلوں میں بائیومیٹرک تصدیقی نظام نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے وائس اور پینک الرٹ سسٹمز، ایکس رے اسکینرز اور انٹیگریٹڈ کرمنل سسٹم کوآرڈینیشن میکانزم کے تحت نگرانی کا نظام بہتر بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور سمیت 11 لاک اپس کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ انہیں جیل کے نظام کے ہر پہلو کا ذاتی تجربہ ہے، اس لیے وہ قیدیوں کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیدیوں کے وقار اور بنیادی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 2024 سے اب تک 2,554 قیدیوں کو ان کے آبائی اضلاع کی جیلوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ پنجاب بھر کی تمام جیلوں میں آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ ہر قیدی کو جیل پی سی او کے ذریعے اپنے اہل خانہ سے ہفتہ وار 80 منٹ آڈیو گفتگو کا حق حاصل ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب کی جیلوں کی مجموعی گنجائش 30 ہزار سے بڑھا کر 39 ہزار قیدی کر دی گئی ہے، تاہم اس وقت جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 68 ہزار سے 79 ہزار کے درمیان ہے، جن میں 73 فیصد زیر سماعت مقدمات کے قیدی ہیں۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ صوبے کی پانچ بڑی جیلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ قیدیوں کی ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے 74 ماہرینِ نفسیات کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ایران Previous post ایران اور کیوبا کا باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے اور عالمی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
امام علی رحمان Next post تاجک صدر امام علی رحمان نے تہران میں سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تعزیتی تقریب میں شرکت کی