برطانیہ

برطانیہ کا مغربی صحارا کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار، اقوام متحدہ کے تحت سیاسی عمل کی حمایت برقرار

Read Time:2 Minute, 23 Second

لندن، یورپ ٹوڈے: برطانیہ نے مغربی صحارا کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازع کے پائیدار اور باہمی طور پر قابل قبول حل کے لیے اقوام متحدہ کی زیر قیادت سیاسی عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔

یہ موقف برطانوی وزارتِ خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری لارڈ وُڈ آف اینفیلڈ کی جانب سے 28 ستمبر 2026 کو ہاؤس آف لارڈز میں تحریری جواب میں دیا گیا۔ یہ جواب کراس بینچ رکن بیرونس روتھ ڈیچ کے اس سوال کے جواب میں تھا کہ مغربی صحارا کے ساتھ تجارت پر پابندیاں کیوں عائد نہیں کی گئیں۔

لارڈ وُڈ نے کہا کہ برطانیہ مغربی صحارا کے معاملے پر تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی زیر قیادت عمل کی حمایت میں رابطے جاری رکھے گا، جس کا مقصد سمجھوتے کی بنیاد پر ایک ’’منصفانہ، پائیدار اور باہمی طور پر قابل قبول حل‘‘ حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں، بشمول حقِ خود ارادیت کے احترام، کے مطابق ہونا چاہیے۔

برطانوی حکومت کا یہ مؤقف جون 2025 میں برطانیہ اور مراکش کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد سامنے آنے والی وسیع تر پالیسی کے تسلسل میں ہے۔ اس وقت لندن نے مراکش کی جانب سے 2007 میں پیش کیے گئے خودمختاری کے منصوبے کو مغربی صحارا کے تنازع کے پائیدار حل کی جانب ’’سب سے زیادہ قابلِ اعتماد، قابلِ عمل اور عملی بنیاد‘‘ قرار دیا تھا۔

تاہم، برطانیہ نے اسی اعلامیے میں اقوام متحدہ کی زیر قیادت سیاسی عمل کے مرکزی کردار کی بھی توثیق کی تھی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ذاتی ایلچی کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی جانب لانے کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

جون 2025 کے برطانیہ۔مراکش مشترکہ اعلامیے میں لندن نے کہا تھا کہ وہ تنازع کے حل کی کوششوں کی حمایت میں دوطرفہ، معاشی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی پالیسی کے مطابق اقدامات جاری رکھے گا۔ اعلامیے میں مراکش کی جانب سے متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت اور مراکش کی ریاست کے اندر خودمختاری کے ممکنہ خدوخال کی مزید وضاحت کے لیے آمادگی کا بھی خیرمقدم کیا گیا تھا۔

برطانوی حکومت کے حالیہ پارلیمانی جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ لندن ایک طرف اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکراتی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب مراکش کے خودمختاری کے منصوبے کو تنازع کے حل کے لیے ایک ممکنہ بنیاد سمجھتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ اور مراکش سیاسی، اقتصادی، سلامتی اور علاقائی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔ جون 2025 کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں دونوں ممالک نے سیاسی، سفارتی، سلامتی، اقتصادی اور دیگر شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اسحاق ڈار Previous post پاکستان کی ایس سی او صدارت باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مرکوز ہے: اسحاق ڈار
شہباز شریف Next post بزرگ شہریوں کے سماجی و معاشی تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ، وزیراعظم شہباز شریف