
کَیس لاہور میں “معرکۂ حق” سیمینار، پاک فضائیہ کی برتری اور جنوبی ایشیا کی فضائی جنگی حکمتِ عملی پر تفصیلی بحث
لاہور، یورپ ٹوڈے: سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس) لاہور نے پاک بھارت جنگ مئی ۲۰۲۵ کی پہلی برسی کے موقع پر “معرکۂ حق، جنوبی ایشیائی فضاؤں میں ایک فیصلہ کن موڑ” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں، سینئر فوجی افسران اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ کَیس لاہور کے ریسرچ اسسٹنٹ جناب اظہر ذیشان نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔
ایئر کموڈور خالد بنوری ریٹائرڈ نے ۶ اور ۷ مئی ۲۰۲۵ کی درمیانی شب پیش آنے والے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ فضائی جنگ کی تاریخ کی طویل ترین بیونڈ وژول رینج لڑائی کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو بری طرح پسپا کرتے ہوئے اس کے آٹھ طیارے مار گرائے، جن میں جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ انہوں نے اس کامیابی کو پاک فضائیہ کی ہمہ جہت ملٹی ڈومین آپریشنل حکمتِ عملی کا نتیجہ قرار دیا، جس کی قیادت سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شاندار کامیابی برسوں پر محیط جدیدکاری، ادارہ جاتی اصلاحات، مؤثر منصوبہ بندی، سخت تربیتی کلچر، نظریاتی ارتقا اور مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کا ثمر تھی، جس نے پاک فضائیہ کو فیصلہ کن برتری عطا کی۔
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے معرکۂ حق کے بعد پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان سفارتی محاذ پر مکمل طور پر تیار تھا۔ انہوں نے جنگ کے دوران قومی سطح پر مربوط ردِعمل کو سراہتے ہوئے اسے ایک ایسا موڑ قرار دیا جس نے بھارت کی نام نہاد برتری کا بھرم توڑ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ڈی اے اور امریکہ و ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار نے خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار کو نمایاں کیا۔ ان سفارتی کامیابیوں کا سہرا انہوں نے بالعموم پاکستان کی مسلح افواج اور بالخصوص معرکۂ حق کے دوران ایئر چیف مارشل بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ کی غیر معمولی کارکردگی کو دیا۔
ڈاکٹر خرم اقبال نے معرکۂ حق کے بعد بھارت کی عسکری جدیدکاری کے رجحانات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قلیل مدت میں بھارت کی عسکری جدیدکاری کے امکانات پانچ بڑے مسائل کے باعث محدود دکھائی دیتے ہیں، جن میں مالی دباؤ، ادارہ جاتی کھچاؤ، ٹیکنالوجی کے انضمام میں مشکلات، جغرافیائی سیاسی انحصار، اور نظریاتی و فکری رکاوٹیں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان چیلنجز کے باعث بھارت کسی نئی عسکری مہم جوئی کی سکت نہیں رکھتا۔
اختتامی کلمات میں کَیس لاہور کے صدر ایئر مارشل عاصم سلیمان ریٹائرڈ نے کہا کہ معرکۂ حق جنوبی ایشیا کی فضائی جنگی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس جنگ نے ثابت کیا کہ جدید جنگوں میں فتح کا انحصار صرف عددی برتری پر نہیں بلکہ قیادت، عسکری نظریے، ٹیکنالوجی کے مؤثر انضمام اور عملی مہارت پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر چیف مارشل بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے دنیا میں پہلی بار ملٹی ڈومین آپریشنز کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے سائبر، خلائی، الیکٹرانک وارفیئر اور پریسیژن اسٹرائیک صلاحیتوں کو ایک مربوط عملی ڈھانچے میں سمو دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس جنگ نے پاک فضائیہ کے ایک نیکسٹ جنریشن ایئر فورس میں تبدیل ہونے کی توثیق کر دی۔
سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں شرکاء نے جنگ کے عسکری، سفارتی اور تزویراتی پہلوؤں اور جنوبی ایشیا کی سلامتی پر اس کے اثرات کے حوالے سے مقررین سے تبادلۂ خیال کیا۔ شرکاء نے کَیس لاہور کی جانب سے اس فکر انگیز اور جامع مکالمے کے انعقاد کو سراہا۔