
انڈونیشیا سمیت 17 ممالک کی مقبوضہ بیت المقدس میں نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کی شدید مذمت
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا اور 17 دیگر ممالک نے صومالی لینڈ کے اس مبینہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے تحت مقبوضہ بیت المقدس میں نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان ممالک نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام “بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی و تاریخی حیثیت پر براہ راست حملہ ہے۔”
یہ مشترکہ مذمتی بیان انڈونیشیا سمیت 17 ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جن میں مصر، سعودی عرب، قطر، اردن، ترکیہ، پاکستان، صومالیہ، فلسطین اور کویت سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق یکطرفہ اقدامات، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہوں، انہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ مشرقی بیت المقدس 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقہ تصور کیا جاتا ہے، اور اس کی قانونی و تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش “غیر قانونی، کالعدم اور بے اثر” ہے۔
وزرائے خارجہ نے صومالیہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور وحدت کی حمایت کا اعادہ بھی کیا اور ایسے تمام یکطرفہ اقدامات کو مسترد کیا جو اس کی خودمختاری کو نقصان پہنچائیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صومالی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ اسرائیل بھی مبینہ طور پر صومالی لینڈ کے دارالحکومت ہرگیسا میں اپنا سفارتی مشن قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے دسمبر 2025 میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا، تاہم صومالی لینڈ کو 1991 میں صومالیہ سے یکطرفہ آزادی کے اعلان کے باوجود عالمی سطح پر زیادہ تر ممالک کی جانب سے تسلیم حاصل نہیں ہے اور اسے اب بھی صومالیہ کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔
جکارتہ نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے علیحدگی پسند اقدامات کی مخالفت اور افریقہ کے خطہ ہارن میں علاقائی استحکام، خودمختاری اور ریاستی سالمیت کے اصولوں سے وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔