سویڈن کے وزیراعظم

انتخابات سے 100 دن قبل سویڈن کے وزیراعظم کا بائیں بازو کے اتحاد سے متعلق انتباہ

Read Time:1 Minute, 36 Second

اسٹاک ہوم، یورپ ٹوڈے: سویڈن کے وزیراعظم اور موڈریٹ پارٹی کے سربراہ اُلف کرسٹرسن نے ملک میں بائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ ’’سرخ و سبز‘‘ حکومت ملکی معیشت اور سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

ہفتہ کے روز ایکوٹ (Ekot) کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم کرسٹرسن نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں صرف 100 دن باقی رہ گئے ہیں اور اس صورتحال میں ’’سرخ و سبز متبادل‘‘ اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بہت کم لوگ سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سویڈن کی تاریخ کی ممکنہ طور پر سب سے زیادہ بائیں بازو کی حکومت ملک کی معیشت اور قومی سلامتی پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

وزیراعظم کے یہ ریمارکس سویڈن کے ادارۂ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ جماعتی ہمدردی سروے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق سوشل ڈیموکریٹس، لیفٹ پارٹی اور گرین پارٹی کو اتنی عوامی حمایت حاصل ہے کہ وہ 13 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اپنی واضح اکثریت حاصل کر سکتی ہیں۔

سروے کے مطابق ٹیڈو اتحاد میں شامل موڈریٹس، کرسچن ڈیموکریٹس اور سویڈن ڈیموکریٹس کو مجموعی طور پر 40.1 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔ دوسری جانب لبرلز کو صرف 2.5 فیصد عوامی حمایت ملی، جو انتخابی نتائج میں برقرار رہنے کی صورت میں انہیں پارلیمان سے باہر کر سکتی ہے۔

اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کرسٹرسن نے کہا کہ عوام موجودہ حکومت کی کامیابیوں سے بخوبی آگاہ ہیں، جبکہ ممکنہ بائیں بازو کی حکومت کی پالیسیوں اور نتائج کے بارے میں ابھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔

انہوں نے کہا، ’’سب جانتے ہیں کہ ہم نے گزشتہ برسوں میں کیا کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ایک بائیں بازو کی حکومت کیا نتائج لے کر آئے گی۔‘‘

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پیٹرول Previous post پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار
کراچی Next post کراچی کو وفاق کے ماتحت لانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، احسن اقبال