
امریکہ۔ایران معاہدہ اسلام آباد میں طے پانے کی صورت میں دورۂ پاکستان ممکن: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ اسلام آباد میں طے پاتا ہے تو وہ پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، “میں پاکستان جا سکتا ہوں۔ پاکستان بہت شاندار رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بہترین کردار ادا کیا ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی بہت مؤثر رہے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ میں وہاں جاؤں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسلام آباد میں معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو وہ اس موقع پر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا اگلا دور ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے کے اختتام پر دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ ایک مثبت اور مؤثر معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، جس کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں سے پاک معاہدہ سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی امور پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی، جو آئندہ ہفتے ختم ہو رہی ہے، ممکنہ طور پر مزید توسیع کی ضرورت نہ پڑے۔
دریں اثنا، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی جاری ہے جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کی مدت اختتام کے قریب ہے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، تاہم امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران پاکستان کے ذریعے دوسرے دور کے مذاکرات کے انعقاد کے لیے رابطے میں ہیں، تاہم ابھی تک تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ وفود کی آمد، تعداد اور قیام سے متعلق فیصلے متعلقہ فریقین خود کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بطور ثالث پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کو خفیہ رکھا جائے اور تفصیلات فریقین کے اعتماد کے مطابق ہی سامنے لائی جائیں۔
ادھر صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جسے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ۔اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایران اور پاکستان کا مؤقف ہے کہ لبنان ابتدائی جنگ بندی کا حصہ تھا، تاہم امریکہ اور اسرائیل اس سے اختلاف کرتے ہیں۔