خصوصی انٹرویو: "پاکستان وسطی ایشیا کا دروازہ ہے، ہمارے تعلقات کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے"، عالی جناب شریف زادہ یوسف توئیر

خصوصی انٹرویو: "پاکستان وسطی ایشیا کا دروازہ ہے، ہمارے تعلقات کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے”، عالی جناب شریف زادہ یوسف توئیر

Read Time:5 Minute, 27 Second

ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر، عالی جناب شریف زادہ یوسف توئیر نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے تعلقات، دوطرفہ تجارت، ثقافتی و لسانی رشتوں، صدر امام علی رحمان اور عزت مآب رستم امام علی کی قیادت، ڈیجیٹلائزیشن، سیاحت اور دونوں برادر ممالک کے روشن مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی۔

محمد علی پاشا: عالی جناب! آپ پاکستان اور تاجکستان کے موجودہ تعلقات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

عالی جناب شریف زادہ یوسف توئیر: پاکستان اور تاجکستان کے تعلقات دن بدن مزید مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت جاری ہے۔

پاکستان تمام وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک اہم گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے ہم اس بات پر بھرپور کام کر رہے ہیں کہ تمام وسطی ایشیائی ممالک اس جغرافیائی اہمیت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت کی مشترکہ کوششوں سے آئندہ ایک سے دو برس میں دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ سو ملین امریکی ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔

محمد علی پاشا: دونوں برادر ممالک کے درمیان اس وقت دوطرفہ تجارت کی کیا صورتحال ہے؟

عالی جناب: موجودہ علاقائی حالات کے باوجود رواں سال کے وسط تک پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 65 سے 70 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

میں اس حوالے سے بہت پرامید ہوں۔ جیسے ہی خطے میں امن و استحکام مزید بہتر ہوگا، نہ صرف پاکستان اور تاجکستان بلکہ پاکستان اور پورے وسطی ایشیا کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

محمد علی پاشا: ثقافتی تعاون دونوں ممالک کے لیے کس قدر اہم ہے؟

عالی جناب: میں یہ کہنا چاہوں گا کہ گزشتہ سو برسوں میں ہم اپنے بہت سے ثقافتی روابط سے محروم ہو گئے۔

اگر آپ تاجکستان، پاکستان اور افغانستان کو دیکھیں تو یہ ایک ہی تصویر کے تین حصے ہیں۔ جب تک یہ تینوں حصے دوبارہ یکجا نہیں ہوں گے، ہماری مشترکہ تہذیب و ثقافت کی اصل تصویر مکمل نہیں ہوگی۔

لہٰذا ہمیں ان تاریخی اور ثقافتی روابط کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے بھرپور محنت کرنا ہوگی، جس کا فائدہ تینوں ممالک کو ہوگا۔

محمد علی پاشا: فارسی زبان اور اردو کے باہمی تعلق کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

عالی جناب: ہمیں اردو میں گفتگو کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی کیونکہ اردو تقریباً اسی فیصد اپنے الفاظ فارسی زبان سے حاصل کرتی ہے۔ اردو میں موجود بہت سے عربی الفاظ بھی فارسی کے ذریعے ہی شامل ہوئے ہیں۔

اردو کے بے شمار الفاظ کے معنی میرے لیے مانوس ہیں کیونکہ یہی الفاظ ہم تاجکی زبان میں بھی استعمال کرتے ہیں، بلکہ ان کا تلفظ بھی کافی حد تک ایک جیسا ہے۔

پاکستانی موسیقی بھی تاجکستان، سمرقند، بخارا اور افغانستان کی روایتی موسیقی سے بے حد مشابہت رکھتی ہے۔ ان تمام تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ہم ایک ہی قوم ہیں، بلکہ ہمارا تہذیبی DNA بھی مشترک ہے۔

محمد علی پاشا: عالی جناب! صدر امام علی رحمان پاکستان کے عظیم دوست سمجھے جاتے ہیں۔ آپ ان کی شخصیت اور قیادت کو کیسے بیان کریں گے؟

عالی جناب: میں اور میری قوم اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہمیں صدر امام علی رحمان جیسا مدبر رہنما ملا۔

ان کی قیادت میں تاجک قوم کو اپنی شناخت، ثقافت اور عالمی وقار حاصل ہوا۔ انہی کی کاوشوں کے نتیجے میں دنیا میں پانی کے تحفظ سے متعلق عالمی اقدامات کو فروغ ملا۔

تقریباً تیس برس قبل انہوں نے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں پانی کی قلت ایک سنگین عالمی مسئلہ بنے گی۔ اسی طرح انہوں نے گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے دس سالہ عالمی منصوبہ پیش کیا، جس کی اہمیت آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔

محمد علی پاشا: دوشنبے کی ترقی اور خوبصورتی کے فروغ میں عزت مآب رستم امام علی کے کردار کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

عالی جناب: ماشاء اللہ، ان کی قیادت میں دوشنبے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہونے لگا ہے۔ اگر آپ پندرہ سال پہلے اور آج کے دوشنبے کا موازنہ کریں تو زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود، خصوصاً فٹ بال کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے 25 مئی کو عالمی یومِ فٹ بال قرار دیا۔

رستم امام علی نوجوان نسل کے لیے ایک بہترین رول ماڈل ہیں۔

محمد علی پاشا: دونوں برادر ممالک کے درمیان سیاحت کے فروغ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

عالی جناب: مجھے خوشی ہے کہ پاکستانی عوام کی وسطی ایشیائی ممالک میں سیاحت کے حوالے سے دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ہمارے کئی ہمسایہ ممالک پاکستان سے براہ راست پروازیں شروع کر چکے ہیں اور ہم بھی اس حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس وقت ہر ماہ تقریباً 1,300 سے 1,600 پاکستانی سیاح تاجکستان کا رخ کر رہے ہیں، جو عوامی روابط کے فروغ کی ایک خوش آئند علامت ہے۔

محمد علی پاشا: ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے صدر امام علی رحمان کی کوششوں کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

عالی جناب: صدر امام علی رحمان کے اقدامات صرف تاجکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اقوام متحدہ میں ایک جامع ایجنڈا پیش کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا اور منظور کیا گیا۔

ان کی قیادت میں تاجکستان مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بھی خوشی ہوتی ہے کہ پاکستان بھی AI اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

محمد علی پاشا: آئندہ دس برسوں میں آپ پاکستان اور تاجکستان کے تعلقات کو کس مقام پر دیکھتے ہیں؟

عالی جناب: میں ایک ایسے مستقبل کا تصور کرتا ہوں کہ آپ اسلام آباد میں ناشتہ کریں، تاجکستان میں دوپہر کا کھانا کھائیں اور شام کو واپس پاکستان پہنچ جائیں۔

وقت کے ساتھ ہمارے سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور عوامی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ وہ دن دور نہیں جب دونوں ممالک کے درمیان روابط اس قدر گہرے ہو جائیں گے کہ آج کا دور محض تاریخ کا ایک باب بن کر رہ جائے گا۔

محمد علی پاشا: عالی جناب! آپ کا قیمتی وقت دینے کا بے حد شکریہ۔

میں آپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔

About Post Author

محمدعلی پاشا

“دی گلف آبزرور” اور “دی یورپ ٹوڈے” کے مالک اور سرپرستِ اعلیٰ، چیئرمین “دی گلف آبزرور ریسرچ فورم”، خارجہ امور کے ماہر، تجزیہ کار، بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ مصنف اور شاعر۔
Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان Previous post ترکمانستان میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق بین الوزارتی کمیشن کا اجلاس، آئندہ حکمتِ عملی پر غور
فرانس Next post فرانس اور سپین میں شدید جنگلاتی آگ، تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل