ویتنام

ویتنام اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کی آٹھویں ملاقات، دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

Read Time:4 Minute, 53 Second

کینبرا، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیر خارجہ لی ہوانگ تُرنگ اور آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بدھ کے روز کینبرا میں ویتنام۔آسٹریلیا وزرائے خارجہ کی آٹھویں ملاقات (FMM-8) کی مشترکہ صدارت کی، جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے FMM-8 کے انعقاد کا خیرمقدم کیا، جو کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور صدر تو لام کے آسٹریلیا کے سرکاری دورے کے موقع پر منعقد ہوئی۔ دورے کے دوران تین مشترکہ اعلامیوں کی منظوری سمیت اہم نتائج حاصل ہوئے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے تزویراتی اعتماد، مشترکہ مفادات اور ہم آہنگ وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے 2024-2027 کے لیے ویتنام۔آسٹریلیا جامع تزویراتی شراکت داری کے ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کو سراہا گیا۔ فریقین کے مطابق اس منصوبے کے تمام چھ ترجیحی شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

وزرائے خارجہ نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت تقریباً دوگنا ہو چکی ہے اور 2025 میں یہ 14 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ تعلیم و تربیت، ترقیاتی تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور عوامی روابط کے شعبوں میں بھی تعاون مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔

ویتنامی وزیر خارجہ لی ہوانگ تُرنگ نے اعلیٰ سطح پر طے پانے والے وعدوں اور رہنما اصولوں کو جلد از جلد عملی اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کی وزارتیں خارجہ دوطرفہ تعاون کے منصوبوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے، ترجیحات کا تعین کرنے، پیش رفت تیز کرنے اور رکاوٹوں کے خاتمے میں اپنا مرکزی کردار مزید مضبوط کریں۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ آسٹریلیا ویتنام کے ساتھ جامع تزویراتی شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا ویتنام کے ساتھ دونوں معیشتوں کی تکمیلی صلاحیتوں سے بہتر استفادہ، دفاع و سلامتی کے تعاون میں گہرائی اور نئے شعبوں میں شراکت داری کے فروغ کا خواہاں ہے۔

ان نئے شعبوں میں سپلائی چین رابطہ کاری، اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری، گرین اور ڈیجیٹل معیشت، نئی توانائی، مستقبل کی صنعتیں اور جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام میں روابط شامل ہیں۔

علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں وزرائے خارجہ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ایسا کھلا، جامع، شفاف اور قواعد پر مبنی علاقائی نظام تشکیل دینا ضروری ہے جس میں تمام ممالک کو امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔

دونوں جانب نے آسیان کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے آسیان، اقوام متحدہ، ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) فورم اور دیگر کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

پینی وونگ نے جنوب مشرقی ایشیا اور آسیان کی مرکزیت کے لیے آسٹریلیا کے مضبوط عزم کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی اور آسیان کے مختلف میکانزم میں ویتنام کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے 2027 میں ویتنام کی جانب سے APEC کی میزبانی کی کامیابی کے لیے آسٹریلیا کی حمایت کا اظہار کیا اور اسے مضبوط اقتصادی تعاون، پائیدار ترقی اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے اہم قرار دیا۔

بحیرہ جنوبی چین (East Sea) کے حوالے سے دونوں ممالک نے امن، استحکام، سلامتی، تحفظ اور بحری و فضائی آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تنازعات اور اختلافات کو بین الاقوامی قانون کے احترام کی بنیاد پر حل کرنے پر اتفاق کیا، جس میں 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) بھی شامل ہے۔

ملاقات کے موقع پر ویتنامی وزیر خارجہ نے آسٹریلوی محکمہ خارجہ و تجارت کے حکام کے ساتھ بھی ایک ورکنگ سیشن میں شرکت کی، جس میں سفارتی امور میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے تجربات کا تبادلہ کیا گیا۔

لی ہوانگ تُرنگ نے کہا کہ ویتنام ترقی کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور 2045 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے عزم کے ساتھ ایک نئے ترقیاتی ماڈل پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں خارجہ امور قومی ترقی کے لیے وسائل متحرک کرنے اور نئے مواقع پیدا کرنے میں پہلے سے زیادہ تزویراتی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ترقی پر مبنی سفارت کاری کو وزارت خارجہ کی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آسٹریلیا ویتنام کی وزارت خارجہ کو پیشہ ورانہ، جامع اور جدید سفارتی نظام کی تشکیل اور انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے میں تجربات اور معاونت فراہم کرتا رہے گا۔

ویتنامی وزیر خارجہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت معیشت، معاشرے، طرز حکمرانی اور بین الاقوامی تعلقات میں گہری تبدیلیاں لا رہی ہے۔ سفارت کاری کے شعبے میں AI پالیسی تجزیے، تزویراتی پیش گوئی اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے ساتھ نئے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے آسٹریلیا سے AI گورننس کے فریم ورک کی تیاری، خارجہ پالیسی کی تشکیل اور سفارتی سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، سفارت کاروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافے اور AI کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کے حوالے سے تجربات شیئر کرنے کی تجویز پیش کی۔

ورکنگ سیشن کے دوران آسٹریلوی محکمہ خارجہ و تجارت نے ویتنام کی وزارت خارجہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تین پی ایچ ڈی اسکالرشپس فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

دونوں ممالک نے پالیسی مذاکرات، تربیتی پروگراموں اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ FMM کے فریم ورک اور دونوں وزارتوں کے درمیان دیگر تعاون کے طریقہ کار میں مصنوعی ذہانت کو باقاعدہ موضوعِ بحث بنانے کے امکانات کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
زرداری Previous post پاکستان کو انصاف، مساوات اور رواداری کا علمبردار بنانے کے عزم کی تجدید ضروری ہے، صدر زرداری
مراکش Next post مراکش کے C-130H طیاروں کی جدید کاری کا عمل تیز، دوسرا طیارہ امریکا پہنچ گیا