
خواتین سفارت کاروں نے عالمی مکالمے، تعاون اور امن کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، صدر آصف علی زرداری
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ’’بین الاقوامی یومِ خواتین در سفارت کاری‘‘ کے موقع پر اقوام کے درمیان مکالمے، باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین سفارت کاروں کی کاوشوں نے بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنایا اور مشکل و غیر یقینی حالات میں تنازعات کے پُرامن حل کی راہ ہموار کی۔
صدر مملکت نے 24 جون کو منائے جانے والے اس عالمی دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان میں خواتین کی سفارت کاری اور عوامی زندگی میں خدمات کی ایک روشن تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بیرونِ ملک ملک کی باوقار اور مؤثر نمائندگی کی، جبکہ بیگم شائستہ اکرم اللہ، جو ایک ممتاز سفارت کار اور پارلیمنٹیرین تھیں، اقوام متحدہ میں پاکستان کی اولین نمائندوں میں شامل رہیں اور انسانی حقوق کے فروغ اور نوآزاد ریاستوں کی آواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، جو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں، نے پاکستان کے بین الاقوامی روابط کو وسعت دی اور عالمی فورمز پر ملک کے کردار کو مزید مستحکم بنایا۔
صدر مملکت کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ پاکستانی خواتین نے سفارتی خدمات میں سفیر، مستقل مندوب، سیکریٹری خارجہ اور مشن سربراہ سمیت اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات، اقوام متحدہ اور دیگر کثیرالجہتی اداروں میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی کی اور سفارت کاری کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین سفارت کاروں نے نہ صرف پاکستان کے قومی مفادات کے فروغ میں کردار ادا کیا بلکہ ایسے مواقع پر بھی رابطوں کے دروازے کھلے رکھے جب ریاستوں کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی اور محتاط مذاکرات کی ضرورت درپیش تھی۔
صدر زرداری نے کہا کہ موجودہ دور، جو مسلح تنازعات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی چیلنجز، تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں اور نئے سیکیورٹی خطرات سے عبارت ہے، میں خواتین سفارت کاروں کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کا بنیادی مقصد امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے گہری تیاری، منظم مذاکرات، باریک بینی اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے، اور خواتین سفارت کاروں نے ان تمام شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، قابلیت اور عوامی خدمت سے وابستگی سفارتی اداروں کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔
صدر مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عوامی خدمات میں مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور قانون کے تحت یکساں سلوک کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ حکومت قومی اداروں بالخصوص خارجہ سروس میں خواتین کی مکمل شمولیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بڑی تعداد میں پاکستانی خواتین سفارتی مشنز اور بین الاقوامی تنظیموں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور پیچیدہ مذاکراتی عمل اور مشکل ماحول میں اہم ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حالیہ سفارتی پیش رفت نے ایک بار پھر مسلسل رابطوں اور خاموش سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی سہولت کاری میں پاکستان کا کردار اسی حکمتِ عملی کا مظہر ہے، جس کی بنیاد مکالمے اور کشیدگی سے گریز پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین سفارت کاروں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مختلف سطحوں پر ان کوششوں میں حصہ لیا اور اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کے مؤقف اور روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
صدر مملکت نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ وہ پاکستان کی تمام موجودہ اور سابق خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کاوشوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا اور سفارتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر اور بامقصد بنایا۔ ان کی خدمات دنیا کے ساتھ سنجیدہ، منظم اور مؤثر انداز میں روابط استوار کرنے کی قومی کوششوں کا اہم حصہ ہیں۔