وکٹر ہورتا

75 برس بعد وکٹر ہورتا کا شاہکار دوبارہ منظرِ عام پر: ہوٹل اوبیک کا تاریخی اگواڑا 7 نومبر سے عوام کے لیے کھل جائے گا

Read Time:3 Minute, 10 Second

برسلز، یورپ ٹوڈے: بیلجیم کے نامور معمار وکٹر ہورتا کی شاہکار عمارت "ہوٹل اوبیک” کا تاریخی اگواڑا، جو 1950ء میں منہدم کر دی گئی تھی، 75 برس سے زائد عرصے کے بعد ایک بار پھر عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ 7 نومبر سے برسلز کے علاقے بیرشم سینٹ اگاتھ میں منعقد ہونے والی ایک منفرد نمائش میں اس اگواڑے کے تقریباً 600 منقش پتھر احتیاط سے دوبارہ ترتیب دے کر پیش کیے جائیں گے۔

ہوٹل اوبیک 1902ء میں ایوینیو لوئیز پر بوا دے لا کامبغ کے قریب تعمیر کیا گیا تھا اور اسے برسلز کے آرٹ نوو طرزِ تعمیر کی بہترین مثالوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اپنی غیر معمولی کاریگری اور ہورتا جیسے معمار کے نام سے وابستگی کے باوجود یہ عمارت ایک جدید رہائشی بلاک کی تعمیر کے لیے گرا دی گئی۔

"اوبیک 3.0” کے عنوان سے یہ نمائش اربن ڈاٹ برسلز (urban.brussels) اور بیلجیم کے تعمیراتی شعبے کے تربیتی فنڈ "کنسٹرکٹیو” (Constructiv) کے اشتراک سے کنسٹرکٹیو کے کیمپس میں منعقد کی جا رہی ہے۔ نمائش کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اصل پتھروں کو عمودی طور پر کھڑا کرنے کے بجائے زمین پر افقی انداز میں ترتیب دیا گیا ہے، جس سے زائرین اگواڑے کے اندر سے گزرتے ہوئے پتھر تراشی کی تکنیک، جوڑنے کے نظام اور باریک نقش و نگار کو قریب سے دیکھ سکیں گے، جو گلی سے دیکھنے پر ممکن نہیں تھا۔

اربن ڈاٹ برسلز میں منقولہ ثقافتی ورثے کی سربراہ پاسکل انگلیئر نے دی برسلز ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ان پتھروں میں سے ہر ایک منفرد ہے اور اپنی جگہ ایک مکمل فن پارہ ہے۔ ان کے مطابق خود وکٹر ہورتا اس عمارت کو مجسمہ سازی کے اعتبار سے اپنے کامیاب ترین کاموں میں شمار کرتے تھے۔

ماہرین کے مطابق ہوٹل اوبیک کا انہدام "برسلائزیشن” کی ایک نمایاں مثال ہے، یعنی بیسویں صدی میں برسلز میں تاریخی عمارتوں کے وسیع پیمانے پر انہدام کا رجحان۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد آرٹ نوو طرزِ تعمیر کی مقبولیت ختم ہو چکی تھی اور متمول خاندان روایتی حویلیوں کے بجائے جدید اپارٹمنٹس کو ترجیح دینے لگے تھے۔ پاسکل انگلیئر کے بقول عمارت کے مالک اوکتاو اوبیک کے صاحبزادے نے، جو مبینہ طور پر اس عمارت کو ناپسند کرتے تھے، اسے پراپرٹی ڈویلپرز کے ہاتھ فروخت کر دیا، اور 1949ء میں انہدام کا اجازت نامہ جاری کیا گیا۔

تاہم وکٹر ہورتا کے ایک رفیقِ کار ژاں دیلہائے کی کوششوں سے اگواڑے کا ایک حصہ محفوظ کر لیا گیا، جنہوں نے حکام کو سینکڑوں پتھروں کو احتیاط سے الگ کرنے کے اخراجات برداشت کرنے پر آمادہ کیا۔ بعد ازاں کئی دہائیوں تک یہ پتھر سینٹ ژیل، ترورن، لیکن اور سکاربیک کے خالی پلاٹوں اور گوداموں میں منتقل ہوتے رہے۔ برسلز کیپیٹل ریجن نے 2001ء میں یہ ذخیرہ حاصل کیا، مگر نمائش کی متعدد کوششوں کے باوجود یہ عوام کی پہنچ سے بڑی حد تک دور رہا۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ اگواڑے کو افقی طور پر دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے؛ اس سے قبل 1980ء کی دہائی اور 2011ء میں بھی ایسی کوششیں کی گئی تھیں۔

نئے منصوبے کا مقصد اس تاریخی اگواڑے کو محض عجائب گھر کی نمائش تک محدود رکھنے کے بجائے تعمیراتی کارکنوں اور ہنرمندوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک تعلیمی وسیلہ بنانا بھی ہے۔ کنسٹرکٹیو بیرشم سینٹ اگاتھ میں تعمیرات اور ورثے سے متعلق پیشوں کے لیے ایک مرکزِ فضیلت قائم کر رہا ہے، جس کی تربیتی سرگرمیوں میں ہوٹل اوبیک کے پتھر اور اصل کھڑکیوں کے فریم بھی استعمال کیے جائیں گے۔

نمائش کم از کم آئندہ دو برس تک جاری رہے گی، جس دوران زائرین رہنمائی کے ساتھ دوروں کے ذریعے اسے دیکھ سکیں گے، جبکہ اسکولوں اور تنظیموں کے لیے خصوصی تعلیمی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ نمائش 7 نومبر کو کھلے گی اور دوروں کے لیے پیشگی بکنگ hotelaubecq.be پر کی جا سکتی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
توشہ خانہ Previous post توشہ خانہ کے نئے قواعد 2026ء: 300 ڈالر تک کے تحائف قیمت ادا کر کے رکھنے کا راستہ بند، قیمتی اور حساس تحائف کو نیلامی سے استثنیٰ کا اختیار کمیٹی کے سپرد
پیوٹن Next post پیوٹن کی یورپی قیادت پر تنقید، داخلی بدامنی کا الزام روس پر عائد کرنے سے گریز کا مطالبہ