
حیدر علیئیف سینٹر میں "فلائی ٹو باکو۔ آرٹ ویک اینڈ۔ سینس دی فیوچر ناؤ” فیسٹیول کا باضابطہ افتتاح
لیلیٰ علیئیفا کی تقریب میں شرکت، فیسٹیول کا مرکزی موضوع قفقاز کے "بگ فائیو” اور فطرت کا تحفظ
باکو: حیدر علیئیف سینٹر میں 30 اکتوبر کو "فلائی ٹو باکو۔ آرٹ ویک اینڈ۔ سینس دی فیوچر ناؤ” فیسٹیول کا باضابطہ افتتاح ہوا، جس میں دنیا بھر سے نامور فنکاروں، کیوریٹرز اور فن کے شائقین نے شرکت کی۔
حیدر علیئیف فاؤنڈیشن کی نائب صدر اور آئیڈیا پبلک یونین کی بانی لیلیٰ علیئیفا نے الینا علیئیفا کے ہمراہ افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ "آرٹ ویک اینڈ” کے افتتاح کے موقع پر حیدر علیئیف سینٹر میں متعدد نمائشیں پیش کی گئیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیلیٰ علیئیفا نے کہا کہ مختلف ممالک سے نامور فنکار اس فیسٹیول میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں شرکاء کو بے شمار پینٹنگز، انسٹالیشنز، مجسمے اور پرفارمنسز دیکھنے کو ملیں گی، جن کا مقصد فطرت کے حسن کے ساتھ ساتھ اس کی طاقت اور سختی کو بھی اجاگر کرنا ہے۔
فیسٹیول کے ماحولیاتی موضوع کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2012ء میں قفقاز کے "بگ فائیو” کا تعین کیا گیا، جن میں معدومی کے خطرے سے دوچار جانور بھورا ریچھ، سرمئی بھیڑیا، قفقازی تیندوا، شاہی عقاب اور غزال شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تب سے مقامی محکموں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر ان جانوروں کے تحفظ، انہیں دوبارہ قدرتی ماحول میں آباد کرنے اور ان کے مسکن کو وسعت دینے کے لیے کام کیا جا رہا ہے، اور یہ کوششیں خاصی کامیاب رہی ہیں۔
لیلیٰ علیئیفا نے مزید کہا کہ فطرت کو سمجھنے اور اس سے محبت کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ زیادہ وقت گزارا جائے، تاکہ انسان اس سے حقیقی تعلق قائم کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر شخص یہ یاد رکھے کہ وہ چھوٹے چھوٹے اقدامات سے بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، اور یہی "سینس دی فیوچر ناؤ” فیسٹیول کا اصل پیغام ہے۔
تقریب میں آذربائیجان اسٹیٹ چلڈرنز فلہارمونک نے قومی رقص پیش کیے۔
معروف آرٹ کیوریٹر سائمن ڈی پیوری نے باکو آنے والے بین الاقوامی فن کاروں اور نمائندوں کی جانب سے لیلیٰ علیئیفا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے 2012ء میں لندن میں ان سے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ لیلیٰ علیئیفا کی دلی خواہش تھی کہ آذربائیجانی فنکاروں کو عالمی سطح پر پہچان اور وسیع بین الاقوامی پذیرائی ملے۔ اسی گفتگو کے نتیجے میں 2012ء میں "فلائی ٹو باکو” نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں آذربائیجان کے عصرِ حاضر کے نمایاں ترین فنکاروں کے فن پارے شامل تھے۔
سائمن ڈی پیوری نے کہا کہ لندن میں ہونے والی پہلی نمائش بے حد کامیاب رہی، جس کے بعد یہ پیرس، ماسکو اور دنیا کے کئی دیگر شہروں میں بھی پیش کی گئی۔ انہوں نے 2016ء میں حیدر علیئیف سینٹر میں امریکی فنکار جارج کونڈو کے فن پر منعقدہ نمائش کا بھی ذکر کیا اور اس عمارت کو معروف آنجہانی معمار زاہا حدید کا شاہکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نظر میں یہ زاہا حدید کے شاندار کیریئر کا بہترین کام ہے۔
تقریب میں پرویز محمد رضایف کا تحریر و ہدایت کردہ ایک تھیٹریکل پرفارمنس بھی پیش کیا گیا، جبکہ "آرٹ ویک اینڈ” کا بصری ماحول لامان یوسفلی نے تخلیق کیا۔ رقص، موسیقی اور بصری کہانی گوئی کے ذریعے یہ پرفارمنس انسان اور فطرت کے نازک رشتے کی ایک شاعرانہ داستان کی صورت میں سامنے آیا۔ تقریب کے بعد آذربائیجان اسٹیٹ ڈانس اینسمبل نے روایتی رقص "جنگی” اور "یالی” پیش کر کے ملک کے قدیم ثقافتی ورثے کی جھلک دکھائی۔
لیلیٰ علیئیفا کی کاوش سے یہ فیسٹیول مسلسل دوسرے سال منعقد کیا جا رہا ہے۔ فیسٹیول کا نمائشی پروگرام مختلف فنی رجحانات، نسلوں اور خطوں کو یکجا کرتا ہے اور ناظرین کو یادداشت، ثقافتی ورثے، فطرت، حیاتیاتی تنوع، شناخت اور مستقبل جیسے موضوعات پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
اس سال کے "آرٹ ویک اینڈ” کا ایک مرکزی موضوع "قفقاز کے بگ فائیو” ہیں، جن کے ذریعے خطے کے حیاتیاتی تنوع اور ثقافتی یادداشت، اساطیر اور اجتماعی شناخت میں جانوروں کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔
نمائش میں شامل منصوبوں میں "افسانوی مخلوقات: ایک آذربائیجانی حیوان نامہ” بھی شامل ہے، جو "بگ فائیو” کو آذربائیجانی لوک داستانوں کی اساطیری مخلوقات سے جوڑتا ہے اور جنگلی حیات کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ اس نمائش میں چھ فنکاروں کے چھ فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں قالین بافی، مجسمہ سازی، فوٹوگرافی، دھاتی کام اور مخلوط میڈیا شامل ہیں۔ یہ تمام فن پارے پہلی بار عوام کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔
عصری فن کی نمائش "جب فطرت بولتی ہے۔ وارثین” میں قفقازی تیندوے، بھورے ریچھ، سرمئی بھیڑیے، سنہری عقاب اور غزال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ نمائش انسان اور فطرت کے تعلق کا جائزہ لیتی ہے اور اس ورثے، ذمہ داری اور قدرتی دنیا پر غور کرتی ہے جو آئندہ نسلوں کو منتقل ہونی ہے۔ اس میں انسٹالیشن، مجسمہ سازی، سرامکس، ٹیکسٹائل اور مخلوط میڈیا میں کام کرنے والے فنکار شامل ہیں۔
مہمانوں نے چینی فنکار ژانگ جی کی نمائش "دی اسکن آف ٹروتھ” بھی دیکھی، جس میں ان کی "دی اسکن آف ٹروتھ” اور "الٹیما” سیریز کے فن پارے شامل ہیں۔ ژانگ جی مختلف مذہبی اور ثقافتی روایات کے تعمیراتی نقوش کو عصری مصوری سے ہم آہنگ کرتے ہیں اور قرطبہ کی جامع مسجد اور قصرِ الحمراء جیسی تاریخی عمارتوں سے متاثر ہیں۔ وہ برش کے بجائے سرنج استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کے فن پاروں پر ابھری ہوئی سطحیں بنتی ہیں جو کندہ کاری کے مجسموں سے مشابہ ہوتی ہیں۔ ان کے فن پارے امریکہ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، چین، فرانس، اسپین، سوئٹزرلینڈ، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ممالک میں نمائش کے لیے پیش کیے جا چکے ہیں اور دنیا بھر کے مجموعوں کا حصہ ہیں۔
حیدر علیئیف سینٹر میں معروف امریکی فنکارہ جوڈی شکاگو کا منصوبہ "اگر دنیا پر خواتین کی حکمرانی ہو تو؟” اور اطالوی فنکار مائیکل اینجلو پستولیتو کی نمائش "آئینۂ ابدیت” بھی پیش کی جا رہی ہے۔ جوڈی شکاگو کا منصوبہ 2022ء سے کئی ممالک پر محیط ایک عالمی آرکائیو کی شکل اختیار کر چکا ہے، اور باکو میں ناظرین ایک انٹرایکٹو ریکارڈنگ بوتھ میں سوالات کے جوابات دے کر اس کے اگلے باب کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پستولیتو کی "آئینۂ ابدیت” مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی تصاویر کو یکجا کر کے ایسے نئے چہرے تخلیق کرتی ہے جو پہلے کبھی موجود نہیں تھے۔ شرکاء اپنی تصاویر اپ لوڈ کرتے ہیں، جنہیں نظام کسی دوسرے شخص کی تصویر کے ساتھ ملا کر ایک نئی تصویر تیار کرتا ہے۔ یوں ہر تصویر یادداشت کا جامد ریکارڈ نہیں رہتی بلکہ ہر نئے ملاپ کے ساتھ بدلتی ہوئی ایک ڈیجیٹل وجود بن جاتی ہے۔ یہ فن پارہ انسان، یادداشت، ٹیکنالوجی اور زندگی کی ہمیشہ بدلتی فطرت کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔
"فلائی ٹو باکو۔ آرٹ ویک اینڈ۔ سینس دی فیوچر ناؤ” فیسٹیول یکم نومبر تک جاری رہے گا۔