گورنر

سابق گورنر اسٹیٹ بینک اور سابق نگران وزیرِ خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں

Read Time:5 Minute, 6 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی سابق گورنر اور سابق نگران وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر ہفتے کے روز دل کا دورہ پڑنے سے 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کے وقت وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی چیئرپرسن کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں، جس کے باعث انہیں پاکستان کی مانیٹری پالیسی، مالیاتی نظم و نسق اور کیپیٹل مارکیٹس میں بیک وقت اہم کردار ادا کرنے کا منفرد اعزاز حاصل رہا۔

ڈاکٹر شمشاد اختر کو پاکستان کی ممتاز ترین ماہرینِ معیشت میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کا قومی اور بین الاقوامی کیریئر کئی دہائیوں پر محیط تھا، جس میں انہوں نے معاشی حکمرانی، مالیاتی شعبے کی اصلاحات اور عالمی اقتصادی روابط کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ 2 جنوری 2006 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر کے طور پر مقرر ہوئیں اور تین سالہ مدت تک اس منصب پر فائز رہیں۔ وہ جولائی 1948 میں مرکزی بینک کے قیام کے بعد اس کی 14ویں گورنر تھیں۔

علاوہ ازیں، ڈاکٹر شمشاد اختر نے دو مرتبہ نگران حکومتوں میں وفاقی وزیرِ خزانہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں—پہلی بار 2018 میں اور دوسری بار 2023 سے 2024 تک—اور سیاسی عبوری ادوار میں متعدد اہم اقتصادی قلمدان سنبھالے۔ 23 مارچ 2024 کو انہیں معیشت اور عوامی مالیات کے شعبے میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اپنے تعزیتی بیان میں صدر نے ملکی معاشی نظم و نسق اور مالیاتی حکمرانی کے فروغ میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اہم ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ صدر نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک “باوقار، اصول پسند اور دانشمندانہ آواز” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر اعلیٰ درجے کی ماہرِ معیشت اور ایک شاندار انسان تھیں، جنہوں نے ہر اعلیٰ منصب پر دیانت داری اور لگن کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ ان کے بقول، “ڈاکٹر شمشاد اختر کی قومی خدمات ہمیشہ احترام سے یاد رکھی جائیں گی۔”

سابق نگران وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن عمر سیف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ نگران کابینہ میں چند ماہ کی مشترکہ خدمات کے دوران ان سے ایک خاص تعلق قائم ہو گیا تھا۔ “وہ شفیق، مدبر اور نہایت باصلاحیت تھیں۔ ہم مزاحاً ایک دوسرے کو ‘میرا پسندیدہ وزیر’ کہا کرتے تھے۔” عمر سیف نے ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال کو قومی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ “آج پاکستان ایک غریب تر ملک ہو گیا ہے۔”

عالمی مالیاتی اداروں میں شاندار کیریئر

اسٹیٹ بینک کی گورنر بننے سے قبل ڈاکٹر شمشاد اختر ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے وابستہ رہیں، جہاں وہ جنوری 2004 سے جنوب مشرقی ایشیا ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر جنرل تھیں۔ اس سے قبل وہ اسی شعبے میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور مشرقی و وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ میں گورننس، فنانس اور ٹریڈ ڈویژن کی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں۔ انہوں نے 1990 میں اے ڈی بی میں شمولیت اختیار کی اور بتدریج ترقی کرتے ہوئے 1998 میں منیجر کے عہدے تک پہنچیں۔

1998 سے 2001 کے دوران وہ اے ڈی بی کی جانب سے اے پیک فنانس منسٹرز گروپ کی کوآرڈینیٹر رہیں اور تنظیم کی متعدد اہم کمیٹیوں، جن میں ری آرگنائزیشن، اپیلز اور اوور سائٹ کمیٹیاں شامل تھیں، کی رکن بھی رہیں۔ اپنے دورِ ملازمت میں انہوں نے بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف سیکیورٹیز کمیشنز (آئی او ایس سی او) سمیت بڑے عالمی فورمز پر اے ڈی بی کی نمائندگی کی۔

اے ڈی بی سے قبل ڈاکٹر شمشاد اختر نے تقریباً دس برس ورلڈ بینک کے پاکستان میں ریزیڈنٹ مشن میں ماہرِ معاشیات کے طور پر کام کیا۔ اس کے علاوہ وہ وفاقی اور سندھ حکومت کے منصوبہ بندی دفاتر سے بھی مختصر عرصے کے لیے وابستہ رہیں۔ ان کا کام میکرو اکنامک تجزیے، مانیٹری اور مالیاتی پالیسی، مالیات، اور صنعت و زراعت جیسے اہم شعبوں میں ساختی اصلاحات پر محیط تھا۔ انہوں نے پاکستان کے ٹیکس نظام، بین الحکومتی مالیاتی تعلقات، غربت اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر اہم تحقیقی مقالات تحریر کیے۔

ڈاکٹر شمشاد اختر پاکستان کے مالیاتی ضابطہ کار اداروں میں اصلاحات، بشمول سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور انشورنس کمیشن کی تنظیمِ نو، میں بھی سرگرم کردار ادا کرتی رہیں۔ انہیں بینکاری قوانین، ریگولیٹری اصلاحات، اور بانڈ مارکیٹس کے ذریعے طویل مدتی فنانسنگ کے فروغ میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔

عالمی اعزازات اور تعلیمی پس منظر

ڈاکٹر شمشاد اختر کو متعدد عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں ابھرتی معیشتوں میں ایشیا کی بہترین سینٹرل بینک گورنر قرار دیا گیا، جبکہ 2008 میں وال اسٹریٹ جرنل ایشیا نے انہیں ایشیا کی دس ممتاز پیشہ ور خواتین میں شامل کیا۔ قازقستان اور ترکمانستان کے صدور نے بھی انہیں تمغوں سے نوازا۔ 2019 کے بعد وہ چین کی وزارتِ خارجہ کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی عالمی مشیروں میں شامل رہیں اور بوآؤ فورم فار ایشیا سے بھی بطور پالیسی شیئرپا وابستہ رہیں۔

حیدرآباد میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر شمشاد اختر نے ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد سے حاصل کی۔ انہوں نے 1974 میں پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں بی اے، قائداعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی، یونیورسٹی آف سسیکس سے ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایم اے اور برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ وہ فلبرائٹ پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو بھی رہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی میں وزٹنگ فیلو کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال کے ساتھ ہی پاکستان کی اقتصادی پالیسی سازی کا ایک عہد اختتام پذیر ہو گیا۔ وہ ادارہ جاتی اصلاحات، عالمی روابط اور علمی وقار پر مشتمل ایک مضبوط وراثت چھوڑ گئیں، جو طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پنجگور Previous post پنجگور میں بھارتی معاونت یافتہ خوارج دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، چار ہلاک
لیلا Next post لیلا علیئیوا کی پہل پر منگاچویر کے بچوں کے لیے نئے سال کا جشن