علاقائی کشیدگی کے پس پردہ عالمی کھیل

Read Time:6 Minute, 32 Second

عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں اتحاد ہمیشہ مشترکہ اقدار کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتے بلکہ اکثر مشترکہ خدشات اور اندیشوں سے جنم لیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک پھیلی ہوئی موجودہ کشیدگی بظاہر ایک ایسے غیر رسمی اتحاد کی جھلک پیش کرتی ہے جسے بہت سے مبصرین ایک غیر اعلانیہ “ٹروئیکا” قرار دیتے ہیں۔ اس میں اسرائیل، بھارت اور امریکہ شامل ہیں۔ اگرچہ ان میں سے ہر ریاست اپنے قومی مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہے، لیکن ایران کی فوجی صلاحیتوں اور پاکستان کی جوہری دفاعی قوت کے حوالے سے ان کے خدشات بتدریج ایک دوسرے سے جڑتے چلے گئے ہیں۔ یوں ایک ایسا ماحول پیدا ہو رہا ہے جس میں دباؤ اور سفارتی چالیں دو حساس خطوں کی جغرافیائی سیاست کو متاثر کر رہی ہیں۔

ایران کے بارے میں اسرائیل کی اسٹریٹجک تشویش کوئی نئی بات نہیں۔ کئی برسوں سے اسرائیلی قیادت ایران کو اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتی آئی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایران کے میزائل اور جوہری عزائم مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں ان کا یہ بیان خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا تھا کہ ایران خطے کے مستقبل کے لیے “سب سے بڑا خطرہ” ہے۔ 2018 میں ان کا یہ اعلان کہ اسرائیل ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا، دراصل صرف ایک دفاعی مؤقف نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی حکمتِ عملی کا اظہار تھا جس کا مقصد تہران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ بھارت نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اپنی سلامتی کی پالیسی کو پاکستان کے گرد مرکوز کر دیا ہے۔ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی نے پاکستان کو بھارت کی علاقائی بالادستی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔ 2019 کے بالاکوٹ واقعے کے بعد ان کا یہ بیان کہ “بھارت سرحد پار سے دہشت گردی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا” دراصل ایک وسیع سفارتی مہم کا حصہ تھا جس کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی گئی۔ مبصرین طویل عرصے سے یہ نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ نئی دہلی کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے تعاون سے بھی جڑی ہوئی ہے، جبکہ اسے واشنگٹن کی سیاسی سرپرستی بھی حاصل رہتی ہے۔

امریکہ نے خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں اس سہ رخی صف بندی میں ایک پیچیدہ مگر اہم کردار ادا کیا۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی واضح طور پر اسرائیل اور بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتی تھی۔ ان کی انتظامیہ نے 2018 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اسے “انتہائی خراب اور یک طرفہ معاہدہ” قرار دیا۔ اسی دوران امریکہ نے بھارت کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو بھی نمایاں طور پر فروغ دیا اور اسے “اہم دفاعی شراکت دار” قرار دیتے ہوئے اپنی انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بتایا۔ یوں واشنگٹن کی پالیسیوں نے نئی دہلی اور تل ابیب دونوں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔

مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والا بحران اس حقیقت کی ایک واضح مثال تھا کہ خطے میں استحکام کس قدر نازک ہو چکا ہے۔ بھارت کی فوجی کارروائی، جو فوری اسٹریٹجک برتری حاصل کرنے کی توقع کے ساتھ کی گئی تھی، غیر متوقع مزاحمت سے دوچار ہوئی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ تیاری اور دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں خطے کی طاقت کا توازن اچانک تبدیل ہوتا دکھائی دیا۔ اس صورت حال کے بعد سفارتی سرگرمیاں فوری طور پر شروع ہو گئیں۔ اسرائیل نے کھل کر بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جبکہ امریکہ نے زیادہ محتاط طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے حالات کا بغور جائزہ لیا اور بعد ازاں ثالثی کے لیے آگے بڑھا۔

واشنگٹن کی یہ ثالثی دراصل ایک گہری اسٹریٹجک تشویش کی عکاس تھی۔ امریکہ کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ اگر کشیدگی طویل ہو گئی تو پاکستان ممکنہ طور پر متبادل جغرافیائی اتحادوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، اس کی جوہری صلاحیت اور ابھرتی ہوئی طاقتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اسے ایک ایسا ملک بناتے ہیں جسے نظر انداز کرنا کسی بڑی طاقت کے لیے آسان نہیں۔ اسی لیے امریکی سفارت کاری نے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی اور خود کو ایک متوازن قوت کے طور پر پیش کیا۔

تاہم یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ فوجی محاذ پر درپیش مشکلات کے بعد بھارت نے بظاہر دباؤ ڈالنے کے بالواسطہ طریقوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی۔ افغانستان میں پراکسی سرگرمیوں کا امکان ایک بار پھر علاقائی مبصرین کے لیے تشویش کا باعث بننے لگا۔ اسی دوران اسرائیل کے دورے کے موقع پر وزیرِ اعظم مودی کی ملاقات میں نیتن یاہو نے افغانستان کے حوالے سے تعاون کی بات کرتے ہوئے جو بیان دیا، اسے کئی تجزیہ کاروں نے وسیع تر اسٹریٹجک ہم آہنگی کا اشارہ قرار دیا۔

ادھر مشرقِ وسطیٰ میں بھی کشیدگی کی ایک نئی لہر ابھرنے لگی۔ اسرائیل ایران کو اپنے لیے مستقل اسٹریٹجک چیلنج سمجھتے ہوئے ممکنہ تصادم کی تیاریوں میں مصروف نظر آیا۔ تہران کے میزائل پروگرام میں پیش رفت اور خطے میں اس کے اتحادیوں کی موجودگی کو تل ابیب میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اگرچہ واشنگٹن نے ابتدا میں کسی حد تک اسٹریٹجک ابہام برقرار رکھا، مگر واقعات کے تسلسل نے آہستہ آہستہ امریکہ کو اسرائیل کے موقف کے قریب کر دیا۔

لیکن جنگیں اور تنازعات ہمیشہ منصوبہ بندی کے مطابق نہیں چلتے۔ ایران نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے مقابلے میں جس استقامت اور ردعمل کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، اس نے بہت سے مبصرین کو حیران کر دیا۔ جس حکمتِ عملی کو ابتدا میں فیصلہ کن اقدام سمجھا جا رہا تھا، وہ ایک طویل اور غیر یقینی تصادم کی صورت اختیار کرتی دکھائی دینے لگی۔

خلیجی ریاستوں کے لیے یہ تمام پیش رفتیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان میں سے اکثر طویل عرصے سے اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتی آئی ہیں، مگر حالیہ بحرانوں نے انہیں اس تحفظ کی پائیداری پر نئے سرے سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عرب کہاوت ہے کہ “جو شخص شیر کی سواری کرے، اس کے لیے اترنا آسان نہیں ہوتا”۔

تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ بڑی طاقتوں کی حکمتِ عملیاں اکثر غیر متوقع نتائج پیدا کرتی ہیں۔ سرد جنگ کے پراکسی تنازعات سے لے کر اکیسویں صدی کی جنگوں تک، کئی مداخلتیں ایسی رہی ہیں جن کا مقصد علاقائی نظم کو ازسرِ نو ترتیب دینا تھا مگر نتیجہ عدم استحکام کی صورت میں نکلا۔ ایران اور پاکستان کے گرد موجودہ حالات بھی کسی حد تک اسی طرز کی کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔

بالآخر یہ صورتحال اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ طاقتور ریاستوں کے سلامتی کے خدشات اکثر وسیع تر علاقائی ہنگامہ خیزی کو جنم دیتے ہیں۔ چاہے اسے ٹروئیکا کہا جائے یا صرف مشترکہ مفادات کا ملاپ، اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے مشترکہ دباؤ نے خطے میں تصادم کے ماحول کو یقینی طور پر متاثر کیا ہے۔ تاہم ایران اور پاکستان جیسے ممالک کی جانب سے دکھائی جانے والی مزاحمت یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سیاست کی بساط کہیں زیادہ پیچیدہ ہے اور کسی ایک اتحاد کے منصوبے ہمیشہ اپنی مرضی کے مطابق نتائج پیدا نہیں کر سکتے۔

بین الاقوامی سیاست کا آخری سبق شاید یہی ہے کہ طاقت تنازعات کو جنم تو دے سکتی ہے، مگر ان کے نتائج کو مکمل طور پر قابو میں رکھنا اس کے بس میں نہیں ہوتا۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ابھرتے ہوئے حالات اسی حقیقت کی ایک تازہ مثال ہیں کہ تاریخ کا بہاؤ اکثر ان قوتوں کو بھی حیران کر دیتا ہے جو اسے اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔

About Post Author

محمد محسن اقبال

ڈائریکٹر جنرل قومی اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد.
Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
مشرقِ وسطیٰ Previous post مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود انڈونیشیا کے سیاحتی مقامات محفوظ، وزارتِ سیاحت کی یقین دہانی
مملکت Next post صدرِ مملکت کی منظوری، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات