
صدر آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، معاشی و توانائی صورتحال کا جائزہ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جمعرات کے روز ایوانِ صدر میں ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت کی، جس میں تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں، بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں اور خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ملک کی معاشی اور توانائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی و سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ توانائی و پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ اور سیکریٹری خزانہ بھی شریک تھے۔
اجلاس میں عالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
وزیرِ خزانہ اور وزیرِ پیٹرولیم نے اجلاس کو پیٹرولیم قیمتوں کو مستحکم رکھنے، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے دیگر شعبوں پر اثرات کو کم کرنے اور اخراجات میں کمی کے لیے کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے حوالے سے جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سیکیورٹی، معاشی منظرنامے اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات پر بھی غور کیا گیا۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے اور پالیسی فیصلوں میں استحکام کے ساتھ عوامی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں قومی اتفاقِ رائے کو برقرار رکھنے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معاشی نظم و نسق، توانائی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور مجموعی سیکیورٹی معاملات کو ہم آہنگ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے، پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دیا جائے اور مشترکہ سفری نظام کو اپنایا جائے۔