
اے آئی سیکھو 2026 نوجوانوں کو جدید مصنوعی ذہانت کی مہارتوں سے آراستہ کرنے کی جانب اہم قدم ہے: شزہ فاطمہ خواجہ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ “اے آئی سیکھو 2026” اقدام نوجوان پیشہ ور افراد کو جدید مصنوعی ذہانت کی مہارتوں سے آراستہ کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل افرادی قوت کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے، جس میں عالمی شراکت داروں خصوصاً Google کا تعاون حاصل ہے۔
تینیلر پاکستان کے زیر اہتمام، وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور Innovista کے اشتراک سے منعقدہ “اے آئی سیکھو 2026” ایوارڈ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شراکت دار اداروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پروگرام کے آغاز کے فوراً بعد اسے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس آن لائن چیلنج کے لیے 10 ہزار سے زائد رجسٹریشنز موصول ہوئیں، جن میں تقریباً 40 فیصد پیشہ ور ڈویلپرز شامل تھے، جو ملک میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
بعد ازاں 7 ہزار سے زائد شرکاء نے پروگرام میں فعال طور پر حصہ لیا، جنہوں نے 2600 سے زائد ٹیمیں تشکیل دیں اور علاقائی و قومی مقابلوں میں 600 سے زیادہ منصوبے جمع کرائے۔ شرکاء نے Google کے جدید اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں ایپلیکیشنز اور حل تیار کیے، جن میں تکنیکی مہارت، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نمایاں رہی۔
علاقائی مراحل کے بعد چھ فائنلسٹ ٹیمیں قومی فائنل تک پہنچیں، جہاں مجموعی طور پر 2.5 ملین روپے کے انعامات تقسیم کیے گئے۔ کراچی کی ٹیم “Struggler” نے پہلی پوزیشن حاصل کی، اسلام آباد کی “Nurture” دوسری اور لاہور کی “Vibronix” تیسرے نمبر پر رہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ اب وہ اے آئی اور کوڈنگ کو مشکل کے بجائے مستقبل کے لیے قابلِ حصول مہارت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا ڈیجیٹل مہارتوں کے حصول کے لیے سنجیدہ رویہ ایک اہم قومی پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 15 کروڑ سے زائد نوجوان آبادی میں اگر صرف ایک چھوٹا حصہ بھی ایسے پروگرامز میں حصہ لے تو یہ ملک کے لیے بڑا موقع بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت زراعت، صنعت، صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبوں کو تبدیل کر رہی ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اے آئی لٹریسی اب صرف تکنیکی ماہرین نہیں بلکہ غیر تکنیکی افراد کے لیے بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید اے آئی ٹولز نے پیچیدہ مسائل کے حل اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید آسان بنا دیا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی شراکت داریوں خصوصاً گوگل کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں 9 لاکھ سے زائد نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت دی گئی ہے۔
انہوں نے پاکستان کی پہلی نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی کا بھی ذکر کیا جسے وفاقی کابینہ نے منظور کیا ہے، اور جس میں انفراسٹرکچر، مہارتوں کی ترقی، اخلاقی اصولوں اور اے آئی گورننس کو شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل ڈیجیٹل پالیسی اور مربوط ڈیجیٹل نظام کی ترقی پر بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے سب میرین کیبلز اور بین الاقوامی روٹس کی بہتری کے ذریعے انٹرنیٹ استحکام میں بہتری لائی ہے۔
وزیر نے کہا کہ حالیہ اسپیکٹرم توسیع سے انٹرنیٹ کی صلاحیت اور سروس کے معیار میں بہتری آئی ہے جبکہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت بڑے شہروں میں 5G سروسز کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فائبر آپٹک نیٹ ورک میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے اور مزید ترقی کے منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ بنیادی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت اور تعلیمی اداروں کے تعاون سے ڈیجیٹل اسکلز پروگرامز کو مزید وسعت دے رہی ہے جبکہ نصاب میں اصلاحات بھی جاری ہیں تاکہ طلبہ کی ملازمت کے مواقع بہتر بنائے جا سکیں۔
تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے فاتح ٹیموں میں نقد انعامات بھی تقسیم کیے۔