
سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ سروسز معطل، ممکنہ امریکہ۔ایران مذاکرات کے پیشِ نظر سخت اقدامات نافذ
راولپنڈی، یورپ ٹوڈے: راولپنڈی اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اتوار کے روز آئندہ متوقع امریکہ۔ایران مذاکرات کے پیشِ نظر سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے تمام سرکاری، نجی اور مال بردار ٹرانسپورٹ سروسز کو تاحکمِ ثانی معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان نے حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کروا کر اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے بعد اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، تاہم جنگ بندی تاحال برقرار ہے اور مستقل امن کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نمائندہ وفد کی آمد کے اعلان کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع کی جا رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ شہر میں بھاری اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تاحکمِ ثانی معطل کیا جا رہا ہے، شہریوں سے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ نے بھی فوری طور پر تمام نجی، سرکاری اور مال بردار ٹرانسپورٹ کی معطلی کا اعلان کیا۔
میٹرو بس اتھارٹی کے مطابق جڑواں شہروں کے درمیان چلنے والی ریڈ میٹرو بس سروس اتوار سے مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جو راولپنڈی کے صدر اسٹیشن سے اسلام آباد کے پاک سیکرٹریٹ اسٹیشن تک معطل رہے گی۔ یہ پابندیاں ضلعی انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق تاحکمِ ثانی برقرار رہیں گی۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات عارضی ہیں اور حساس صورتحال کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ راولپنڈی میں پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جہاں 10 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 600 سے زائد خصوصی ناکے قائم کیے گئے ہیں اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی جاری ہے۔
اسلام آباد میں بھی سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد عثمان طارق بٹ اور ایس ایس پی آپریشنز علی رضا نے مختلف مقامات کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور اہلکاروں کو فرائض کی انجام دہی سے متعلق ہدایات جاری کیں۔ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے لیے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ اینٹی رائٹ گیئر پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سٹی پولیس آفیسر خالد ہمدانی مجموعی سیکیورٹی آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس، تربیت یافتہ اسنائپرز اور کوئیک رسپانس یونٹس کو تعینات کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 18 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی متوقع ہے۔ اسلام آباد پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور (ایف سی) بھی مشترکہ چیک پوسٹس کے قیام میں حصہ لے رہے ہیں۔
انتظامیہ نے ہاسٹلز، ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور سرائے بند رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ مدارس، خصوصاً حساس علاقوں کے قریب واقع اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
متبادل ٹریفک پلان
حکام کے مطابق ریڈ زون اور ایکسٹینڈڈ ریڈ زون مکمل طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہیں گے۔ اسلام آباد ایکسپریس وے (کورال سے زیرو پوائنٹ) بند رہے گی جبکہ سری نگر ہائی وے کو وقفے وقفے سے بند کیا جا سکتا ہے۔ بھاری ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ٹرانسپورٹرز کو دارالحکومت کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جناح ایونیو (خیبر پلازہ کے قریب) اور کلب روڈ (کشمیر چوک سے) بند کر دی گئی ہیں۔ متبادل راستوں کے طور پر سیکٹرز G-5، G-6، G-7، F-6 اور F-7 کے مکینوں کو مارگلہ روڈ اور نائنتھ ایونیو استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے والی ٹریفک کو نائنتھ ایونیو کی طرف موڑا جائے گا۔
زیرو پوائنٹ تا کورال چوک بند ہونے کی صورت میں ٹریفک کو سری نگر ہائی وے، نائنتھ ایونیو، اسٹیڈیم روڈ، مری روڈ (چاندنی چوک) اور راول روڈ کے ذریعے کورال کی جانب بھیجا جائے گا۔ پارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک کو ترمڑی چوک کی طرف منتقل کیا جائے گا۔
ٹریفک پولیس کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کی رہنمائی اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔