
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان، ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی وفد کل اسلام آباد پہنچے گا
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے امریکی نمائندے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا، “میرے نمائندے اسلام آباد، پاکستان جا رہے ہیں — وہ کل شام وہاں پہنچ جائیں گے تاکہ مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔” انہوں نے آبنائے ہرمز میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے ایک روز قبل فائرنگ کی، جسے انہوں نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے مطابق بعض فائرنگ ایک فرانسیسی جہاز اور برطانیہ کے ایک مال بردار جہاز کی جانب کی گئی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، جسے انہوں نے “عجیب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ پہلے ہی عملاً بند ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بندش سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکہ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق متعدد بحری جہاز اب ٹیکساس، لوئیزیانا اور الاسکا کی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں تاکہ سامان لاد سکیں، جس کی وجہ انہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی کارروائیوں کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ تہران کو ایک “منصفانہ اور معقول” معاہدے کی پیشکش کر رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ ایران اسے قبول کرے گا، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا، “اگر ایران نے یہ پیشکش قبول نہ کی تو امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران یا تو فوری طور پر معاہدے پر عمل کرے یا مزید کارروائی کے لیے تیار رہے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم کرنے کا کوئی جواز حاصل نہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا، “ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری حقوق استعمال نہیں کر سکتا، مگر یہ نہیں بتاتے کہ کس جرم کی بنیاد پر۔ وہ کون ہوتے ہیں کسی قوم کو اس کے حقوق سے محروم کرنے والے؟”
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران امن اور علاقائی استحکام کے لیے پُرعزم ہے اور جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کے حوالے سے دہرا معیار قرار دیا۔
انہوں نے کہا، “ہم نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی موجودہ صورتحال میں کسی پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم صرف جائز دفاع کر رہے ہیں۔ جیسے ہر انسان جارحیت کے خلاف ردعمل دیتا ہے، اسی طرح ایک قوم بھی اپنے دفاع کا حق رکھتی ہے۔”