انڈونیشیا

انڈونیشیا میں ریلوے ٹیکنالوجی کی ترقی پر کام، علاقائی ترقی اور لاجسٹکس میں بہتری کا ہدف

Read Time:1 Minute, 50 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی (برین/BRIN) نے ملک میں ٹرانسپورٹ کی کارکردگی بہتر بنانے اور علاقائی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ریلوے ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں پر کام شروع کر دیا ہے، جس میں رولنگ اسٹاک، انفراسٹرکچر اور گورننس شامل ہیں۔

برین کے سربراہ عارف ستریا نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ تحقیق صرف تکنیکی پہلوؤں تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی اور آپریشنل جہتوں کو بھی شامل کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے کم از کم تین اہم شعبے ہیں، جن میں سماجی و ادارہ جاتی، مسافروں سے متعلق امور اور ماحولیاتی پہلو شامل ہیں۔

عارف ستریا کے مطابق ادارہ قومی انجینئرنگ صلاحیتوں میں بہتری کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، خاص طور پر انجن اور رولنگ اسٹاک کی تیاری میں، تاکہ مؤثر ٹیکنالوجی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک نے اسٹریٹجک انجینئرنگ سرمایہ کاری کے ذریعے تیزی سے تکنیکی مہارت حاصل کی ہے۔

انفراسٹرکچر کے شعبے میں برین ریلوے پلوں کے لیے اسٹرکچرل ہیلتھ مانیٹرنگ سسٹم تیار کر رہا ہے، جو کہ زیرِ استعمال متعدد پرانے پلوں کی حالت کے پیش نظر نہایت اہم ہے۔

ادارہ ربڑ پر مبنی ریلوے سلیپرز جیسے جدید مواد بھی تیار کر رہا ہے، جنہیں مختلف تکنیکی آزمائشوں سے گزارا جا چکا ہے اور توقع ہے کہ اس سے استحکام اور آپریشنل حفاظت میں اضافہ ہوگا۔

گورننس کے حوالے سے برین ٹرانسپورٹ سسٹمز کے انتظام اور انضمام پر تحقیق کر رہا ہے، جس میں شہری علاقوں کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔

عارف ستریا نے کہا کہ یہ اقدامات ریلوے انفراسٹرکچر اور صنعت کی ترقی کو تیز کرنے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب رابطہ کار وزیر برائے انفراسٹرکچر و علاقائی ترقی آگس ہری مرتی یدھویونو نے کہا کہ ریلوے نیٹ ورک کی ترقی اب جاوا سے باہر کے علاقوں پر مرکوز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پالیسی صدر پرابوو سوبیانتو کی ہدایت پر قومی ترجیحی پروگرام کے تحت اختیار کی گئی ہے، جس کا مقصد سماٹرا، کالیمانتان اور سولاویسی کو ترقی میں پیچھے نہ رہنے دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مربوط ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر سے لاجسٹکس اخراجات میں نمایاں کمی اور مسابقت میں اضافہ ممکن ہوگا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا توانائی تحفظ پر زور، بر وقت حکومتی اقدامات سے بحران ٹل گیا
پاکستان Next post پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع، انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی پر بھارت کو عالمی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ