
تاجک صدر امام علی رحمان کو اقوامِ متحدہ یونیورسٹی فار پیس کا سرٹیفکیٹ آف ریکگنیشن عطا
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: 25 مئی کو پیلس آف دی نیشن میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں جمہوریہ تاجکستان کے صدر اور قوم کے رہنما امام علی رحمان کو اقوامِ متحدہ یونیورسٹی فار پیس کی جانب سے ’’سرٹیفکیٹ آف ریکگنیشن‘‘ پیش کیا گیا۔
یہ باوقار اعزاز صدر امام علی رحمان کو امن کے فروغ، علاقائی تعاون کی ترقی، اور اقوام کے درمیان دوستی و باہمی افہام و تفہیم کو مستحکم بنانے کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا۔
اعزاز میں بالخصوص تاجکستان، کرغزستان اور ازبکستان کے درمیان ریاستی سرحدی مسائل کے حل سے متعلق تاریخی معاہدے پر دستخط، ’’اعلانِ خجند برائے دائمی دوستی‘‘ کی منظوری، اور آبی وسائل و موسمیاتی تحفظ سے متعلق عالمی اقدامات کے فروغ کو سراہا گیا۔
تقریب میں اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ صدر امام علی رحمان نے ’’پائیدار ترقی کے لیے پانی، 2018ء تا 2028ء‘‘ کے بین الاقوامی عشرے پر عمل درآمد، کرائیوسفیرک سائنسز سے متعلق بین الاقوامی عشرۂ عمل کی قرارداد، اور ’’آئندہ نسلوں کے لیے امن کے استحکام کا عشرہ‘‘ جیسے عالمی اقدامات کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
حکام کے مطابق یہ اعزاز 19 مئی 2026ء کو اقوامِ متحدہ یونیورسٹی فار پیس کے ریکٹر فرانسسکو روخاس آراوینا کی منظوری سے دیا گیا، جبکہ یونیورسٹی کے مستقل نمائندے ڈیوڈ فرنانڈیز پیویانا نے باضابطہ طور پر صدر امام علی رحمان کو یہ سرٹیفکیٹ پیش کیا۔
اقوامِ متحدہ یونیورسٹی فار پیس نے یہ اعزاز ان ممتاز شخصیات اور ریاستوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے متعارف کرایا ہے جنہوں نے امن کے قیام اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔
تقریب کے دوران امام علی رحمان کے علاقائی امن و استحکام کے قیام، عالمی آبی و موسمیاتی ایجنڈے کے فروغ، اور بین الاقوامی تعاون و سفارتکاری کے ذریعے عالمی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔