
پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
بیجنگ، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے پیر کے روز بیجنگ میں ایک پروقار تقریب کے دوران متعدد معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں (MoUs)، پروٹوکولز اور تعاون کی دستاویزات کے تبادلے کی نگرانی کی۔
یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کی تکمیل کی تقریبات کے سلسلے میں کیے جانے والے وزیراعظم شہباز شریف کے چار روزہ دورۂ چین کا اہم حصہ ہیں۔ وزیراعظم نے ہفتے کے روز ہانگژو پہنچ کر اپنے دورے کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد وہ بیجنگ پہنچے جہاں انہوں نے عظیم عوامی ہال میں چینی وزیراعظم لی چھیانگ کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، صنعتی تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تبدیلی، تعلیم، میڈیا اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور وسیع بنانا ہے۔
زراعت کے شعبے میں دونوں ممالک نے خشک میوہ جات اور گری دار مصنوعات کے لیے معائنہ، قرنطینہ اور حفظانِ صحت سے متعلق پروٹوکول، مکئی کے لیے فائیٹو سینیٹری تقاضوں کا پروٹوکول، زرعی ترقیاتی تعاون کو فروغ دینے کی مفاہمتی یادداشت اور جانوروں کی ویکسینز کے حوالے سے ایک لیٹر آف ایکسچینج پر دستخط کیے۔
اقتصادی ترقی اور تجارت کے شعبے میں اقتصادی تعاون کے فروغ اور آزاد تجارت و کثیرالجہتی نظام کی حمایت سے متعلق دو مفاہمتی یادداشتوں پر اتفاق ہوا۔
تعلیم اور حکمرانی کے میدان میں تعلیمی تعاون کے ایگزیکٹو پروگرام، فارن سروس اکیڈمی اور چائنا فارن افیئرز یونیورسٹی کے درمیان تعاون، کمیونسٹ پارٹی آف چین کے مرکزی پارٹی اسکول (چائنا نیشنل اکیڈمی آف گورننس) اور پاکستان کے نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے درمیان مفاہمتی یادداشت، اور 2026 کے انسانی وسائل کی ترقی کے پروگرام کے مشترکہ نفاذ سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں کنفارمیٹی اسیسمنٹ اور پاکستان سائنس فاؤنڈیشن و چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جبکہ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں بھی اہم تعاون پر اتفاق ہوا۔
میڈیا تعاون کے تحت شِنہوا نیوز ایجنسی اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے درمیان، جبکہ چائنا میڈیا گروپ اور پاکستان ٹیلی ویژن کے درمیان مشترکہ دستاویزی فلموں کی تیاری کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
دونوں ممالک نے صوبائی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دیتے ہوئے چین کے صوبہ ژجیانگ اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے درمیان سسٹر صوبہ تعلقات قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان معاہدوں پر دستخط پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی بڑھتی ہوئی وسعت اور گہرائی کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے۔
ادھر اتوار کے روز ہانگژو میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
اس موقع پر ہاولو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی اور فوجی فرٹیلائزر کے درمیان 1.12 ارب ڈالر مالیت کا ایک بڑا معاہدہ بھی طے پایا۔ اسی طرح آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آر آئی سی کے درمیان 100 ملین ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس میں زرعی کیمیکلز، زرعی مشینری اور ملتان میں علاقائی دفتر کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 200 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں جن کی مجموعی مالیت 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے۔