
پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے مالی سہولیات تک آسان رسائی ناگزیر، ایس ایم ای شعبے کو زیادہ قرضے فراہم کیے جائیں: وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، جبکہ بینکوں کو چاہیے کہ وہ ترجیحی شعبوں، بالخصوص ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔
وزیراعظم نے یہ ہدایات جمعہ کے روز پاکستان میں مالی سہولیات تک رسائی کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں، جہاں انہیں "ایکسیس ٹو فنانس پلان” پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آسان مالی سہولیات کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ خود ہر ماہ "ایکسیس ٹو فنانس پلان” پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مالی سہولیات تک رسائی بڑھا کر معیشت کو مزید مضبوط اور برآمدات پر مبنی بنانا چاہتی ہے۔
بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ "ایکسیس ٹو فنانس پلان” کا مقصد اقتصادی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کی جانب سفر کو تیز کرنا ہے۔ منصوبے کی ترجیحات میں مالی خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور انہیں قومی دھارے کا حصہ بنانا شامل ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے کا مرکزی محور ایس ایم ایز، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبوں کو آسان قرضوں اور مالی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ، پائیدار اقتصادی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل مربوط نظام وضع کیا جائے گا۔ نئی گورننس ساخت کے تحت وفاقی وزیر خزانہ سربراہ جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک شریک سربراہ ہوں گے۔ اس نظام کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
حکام نے مزید بتایا کہ آئندہ دو برس کے لیے مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی فراہمی کے بلند اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے تحت ایس ایم ای شعبے کو بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے قرضوں کی تعداد اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
بریفنگ کے مطابق نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ایز کا حصہ آئندہ دو برس میں 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایس ایم ای شعبے میں قرض حاصل کرنے والے مستفید افراد کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ، رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران، صوبائی چیف سیکریٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔