سبسڈی

محفوظ صارفین کی بجلی سبسڈی ختم نہیں کی جا رہی، تمام اہل صارفین کو ریلیف جاری رہے گا: اویس لغاری

Read Time:4 Minute, 9 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ حکومت محفوظ (پروٹیکٹڈ) بجلی صارفین کے لیے دی جانے والی سبسڈی واپس نہیں لے رہی اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔

اتوار کے روز پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران محفوظ صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار گھریلو صارفین، جو مجموعی صارفین کا 86 فیصد بنتے ہیں، رعایتی نرخوں پر بجلی حاصل کر رہے ہیں۔

وزیر توانائی کے مطابق بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب روپے سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ زرعی اور گھریلو شعبوں کو مجموعی طور پر 527 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل صارفین کو کیو آر کوڈ پر مبنی نظام کے ذریعے بلا تعطل سبسڈی فراہم کی جاتی رہے گی۔

اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت نے ایک رجسٹریشن نظام متعارف کرایا ہے تاکہ سبسڈی صرف مستحق صارفین تک پہنچ سکے۔ اب تک 20 لاکھ سے زائد سنگل فیز صارفین رجسٹریشن مکمل کر چکے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سبسڈی کے خاتمے سے متعلق رپورٹس حقائق کے برعکس ہیں، جبکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی دعوے درست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں 3.5 کھرب روپے کی بچت حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے کی بچت ہوئی، جبکہ مالی سال 2024-25 کے دوران گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

وزیر توانائی نے مزید بتایا کہ جے این سیز کی اضافی مشینری کی فروخت سے 47 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ ان کے مطابق جاری اصلاحات کے باعث بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے مثبت اثرات توانائی کے شعبے میں واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر اصلاحات سے صارفین کو براہ راست ریلیف ملا ہے۔ بجٹ میں سبسڈی کے بوجھ میں کمی سے قومی خزانے پر دباؤ کم ہوا ہے، جبکہ صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ بھی کم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مارچ 2024 سے مئی 2026 کے دوران تمام صارفین کے لیے بجلی نرخوں میں کمی آئی ہے۔ محفوظ صارفین کے ٹیرف میں 31 فیصد، گھریلو صارفین کے نرخوں میں 16 فیصد، صنعتی شعبے میں 33 فیصد، تجارتی صارفین کے لیے 8 فیصد اور زرعی صارفین کے لیے 14 فیصد کمی کی گئی ہے۔ اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ان کے مطابق بڑے صارفین کے ٹیرف میں 13 فیصد کمی جبکہ ملک بھر میں اوسط بجلی نرخ 20 فیصد کم ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا اصلاحات اور مقامی توانائی وسائل کے بڑھتے ہوئے استعمال کو دیا۔

ملک کے توانائی مستقبل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ 2035 تک پاکستان کے توانائی نظام میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد سے بڑھ کر 90 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ مقامی وسائل سے بجلی پیداوار کا تناسب 74 فیصد سے بڑھ کر 96 فیصد ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت قابل تجدید توانائی پاکستان کے توانائی مکس کا 57 فیصد حصہ ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی بلکہ نظام میں شفافیت اور کارکردگی بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ قومی توانائی منصوبے میں 8 گیگاواٹ تقسیم شدہ شمسی توانائی شامل کی گئی ہے، جبکہ نئی نیٹ بلنگ پالیسی سے 90 فیصد گھریلو صارفین متاثر نہیں ہوں گے اور سنگل فیز رہائشی سولر صارفین کے لیے کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔

انہوں نے گلگت بلتستان اور گوادر میں جاری سولرائزیشن منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور اعلان کیا کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کے شمسی منصوبوں کے لیے لائسنس کی شرط ختم کر دی گئی ہے تاکہ قابل تجدید توانائی کے فروغ کو مزید آسان بنایا جا سکے۔

اویس لغاری کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور ڈویژن کی درخواست پر چھوٹے پیمانے کے سولر منصوبوں کے لیے اضافی سہولیات کی منظوری دی ہے، جبکہ نیٹ بلنگ نظام کو ڈیجیٹل بنانے سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نیٹ میٹرنگ ختم نہیں کی گئی بلکہ بلنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور سولر صارفین و دیگر بجلی صارفین کے مفادات میں توازن پیدا کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ محفوظ صارفین کے لیے بجلی سبسڈی بدستور جاری رہے گی اور اسے ختم نہیں کیا جا رہا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
تاجکستان Previous post تاجکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے 2026 تا 2030 پروگرام منظور، عالمی یومِ اطفال سے قبل اہم اقدام
یورپی یونین Next post یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گی