
صدر آصف علی زرداری کا انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی سطح پر متحدہ اور مؤثر ردعمل پر زور
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے انسانی اسمگلنگ کو جدید دور میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر متحد، مسلسل اور مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
30 جولائی کو منائے جانے والے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ محض ایک قانونی جرم نہیں بلکہ ایک ایسا بین الاقوامی منظم جرم ہے جو سرحدوں، قومیتوں اور سماجی و معاشی حیثیت کی تفریق کے بغیر لوگوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ جرائم پیشہ گروہ بہتر مستقبل کی تلاش میں سرگرداں افراد، خواہ وہ معاشی مواقع کے خواہاں ہوں یا تنازعات سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں، کو بے رحمی سے نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سمندری سفر کے دوران خاص طور پر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے انسانی اسمگلنگ کے بنیادی اسباب میں غربت، مقامی اور علاقائی تنازعات، روزگار کے محدود مواقع، ناکافی تعلیم اور امیگریشن کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی کی کمی کو شامل قرار دیا۔ صدر مملکت نے زور دیا کہ اس چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ان بنیادی عوامل کو سمجھنا اور ان کا تدارک کرنا ضروری ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے آن لائن فراڈ کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے والے سائبر جرائم پیشہ گروہوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے قانون نافذ کرنے والے اقدامات، ڈیجیٹل آگاہی، متبادل معاشی مواقع اور وسیع پیمانے پر عوامی شعور اجاگر کرنے کی مہم پر مشتمل کثیرالجہتی حکمت عملی ضروری ہے، بالخصوص ایسے طبقات کے لیے جو غربت اور کمزوری کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف اپنی حکمت عملی کو بنیادی طور پر ازسرنو ترتیب دیا ہے اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا ہے تاکہ ملک کے اندر یا بیرون ملک اسمگلروں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہ رہے۔
صدر مملکت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں صف اول پر موجود ہے اور اس لعنت کے خاتمے کے لیے متعدد محاذوں پر بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے اور ردعمل پر مبنی کارروائیوں سے آگے بڑھتے ہوئے پیشگی اقدامات کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ صدر کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے تیز کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں اہم ملزمان گرفتار کیے گئے اور کمزور حالات سے دوچار متاثرین کو بازیاب کرایا گیا، جبکہ سرحدی نگرانی اور امیگریشن کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ جعلی دستاویزات اور مشکوک سفری سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
صدر زرداری نے ہر شہری پر زور دیا کہ وہ "قوم کی آنکھیں اور کان” بن کر اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ بیرون ملک ملازمتوں کی پیشکش، غیر محفوظ سفری انتظامات، بچوں کی گمشدگی یا جبری مشقت جیسے خطرے کی علامات کو پہچانیں اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
انہوں نے معاشرے پر بھی زور دیا کہ انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو بدنام کرنے کے بجائے ہمدردی اور تعاون فراہم کیا جائے۔ صدر نے کہا کہ یہ افراد مجرم نہیں بلکہ شدید صدمات سے گزرنے والے متاثرین ہیں، جن کی بحالی اور معاشرے میں باعزت واپسی کے لیے واضح راستے فراہم کرنا ضروری ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان کو ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں امید، روزگار کے حقیقی مواقع اور معاشی امکانات فروغ پائیں، بالخصوص نوجوانوں کے لیے، تاکہ کوئی خاندان مجبوری کے باعث انسانی اسمگلروں کے جال میں نہ پھنسے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے عالمی شراکت داروں کے تعاون سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاکہ ایسا محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں ہر فرد عزت، تحفظ اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔