شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر اجتماعی اقدامات کے عزم کا اعادہ

Read Time:3 Minute, 6 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس سنگین عالمی جرم کے خلاف غیر متزلزل عزم کے ساتھ مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

30 جولائی کو منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ محض ایک بین الاقوامی جرم نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا عالمی خطرہ ہے جو سرحدوں سے بالاتر ہو کر سماجی کمزوریوں اور انسانی محرومیوں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس گھناؤنے جرم کا مؤثر مقابلہ صرف قومی اور بین الاقوامی سطح پر متحد، مستقل اور جامع حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مضبوط قانونی، سماجی، انتظامی، حکومتی اور کمیونٹی سطح کے اقدامات پر مشتمل کثیر الجہتی حکمت عملی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کا تعلق دیگر منظم جرائم، جن میں غیر قانونی نقل مکانی، جعلی سفری دستاویزات، منی لانڈرنگ اور جبری مشقت شامل ہیں، سے گہرا تعلق ہے۔ وزیراعظم نے اس پیچیدہ مسئلے کے اسباب اور مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ قومی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے ملک بھر میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کی ہے، جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، کو ایسے جرائم کی روک تھام، نشاندہی اور بروقت کارروائی کے لیے مؤثر نظام فراہم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومتوں، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں، جن میں انٹرپول، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) اور دیگر ممالک کے متعلقہ ادارے شامل ہیں، کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ یونٹس کو خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ متاثرین کے ساتھ ہمدردی، وقار اور احترام کے ساتھ برتاؤ کیا جائے، جبکہ جرم میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے صرف ریاستی اقدامات کافی نہیں بلکہ ہر شہری کی فعال شمولیت، آگاہی اور ذمہ داری کا احساس بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ چوکس رہیں، انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد اور نیٹ ورکس کی نشاندہی میں تعاون کریں اور معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات پر خصوصی توجہ دیں تاکہ وہ استحصالی عناصر کا شکار نہ بنیں۔

وزیراعظم نے شہری ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع ایف آئی اے کی ہیلپ لائنز یا متعلقہ رپورٹنگ پورٹلز کے ذریعے دی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ انسانی اسمگلنگ کے متاثرین مجرم نہیں بلکہ استحصال کا شکار افراد ہیں، جو تحفظ، ہمدردی، نفسیاتی معاونت اور باعزت طور پر معاشرے میں دوبارہ شامل کیے جانے کے حق دار ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کے ادارے متاثرین کو قانونی تحفظ، نفسیاتی معاونت اور بحالی کی ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ وہ وقار کے ساتھ اپنی زندگیوں کی دوبارہ تعمیر کر سکیں۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ایسا پاکستان تشکیل دیا جائے گا جہاں انسانی اسمگلنگ کا مکمل خاتمہ ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے وسیع مواقع موجود ہوں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان اور ایتھوپیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر اتفاق
زرداری Next post صدر آصف علی زرداری کا انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی سطح پر متحدہ اور مؤثر ردعمل پر زور