
ترک بری افواج کے کمانڈر کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: ترک بری افواج کے کمانڈر، جنرل ماتین توکل نے ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں مشترکہ اشتراک کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سربراہ پاک فضائیہ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے روابط اسلامی اخوت، باہمی اعتماد اور مشترکہ تزویراتی مفادات پر استوار ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ دفاعی شراکت داری کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور تربیت، دفاعی تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
ایئر چیف نے بدلتی ہوئی علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دونوں ممالک کی مسلح افواج کے مابین قریبی روابط اور مسلسل ہم آہنگی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے تحت پاک فضائیہ کی مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کے فروغ، بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز)، مصنوعی ذہانت اور جدید دفاعی ٹیکنالوجیز میں حاصل ہونے والی پیش رفت سے بھی معزز مہمان کو آگاہ کیا۔
ترک بری افواج کے کمانڈر نے موجودہ قیادت میں پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل صلاحیتوں اور جدید خطوط پر استوار ہونے کے عمل کو سراہا۔ انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی بصیرت افروز اور متحرک قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاک فضائیہ کو ایک جدید، خود کفیل اور مؤثر قوت میں تبدیل کرنے کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی کو قابلِ ستائش قرار دیا۔
انہوں نے تربیت، استعداد کار میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے مشترکہ تربیتی مشقوں، تبادلہ پروگرامز اور مربوط عسکری سرگرمیوں کے ذریعے باہمی استعداد کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ طویل المدتی تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور عملی تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ترک بری افواج کے کمانڈر اور سربراہ پاک فضائیہ کے درمیان یہ ملاقات پاکستان اور ترکیہ کے مابین مضبوط اور دیرپا عسکری شراکت داری کی گہرائی اور اہمیت کی عکاس ہے۔ یہ دونوں برادر ممالک کے اس غیر متزلزل عزم کا واضح اظہار ہے کہ وہ اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔