سینٹ پیٹرزبرگ

سینٹ پیٹرزبرگ میں ثقافتی روابط اور تخلیقی صنعتوں پر بین الاقوامی کانفرنس، ترکمانستان کی فعال شرکت

Read Time:2 Minute, 23 Second

سینٹ پیٹرزبرگ، یورپ ٹوڈے: 17 سے 19 جون 2026 تک روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقدہ "ثقافتی روابط کے فروغ اور تخلیقی و ثقافتی صنعتوں کی ترقی” سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں ترکمانستان کے وزیرِ تعلیم جمعہ مراد قربان گیلدییف کی سربراہی میں ترکمانستانی وفد نے شرکت کی۔

کانفرنس میں روسی فیڈریشن کے وزیراعظم میخائل مشوستین، بیلاروس کے وزیراعظم الیگزینڈر تورچن، کرغیز جمہوریہ کے کابینہ سربراہ اور صدارتی انتظامیہ کے چیئرمین عادل بیک قاسمالییف، تاجکستان کے وزیراعظم قاہر رسول زادہ، ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ عاریپوف اور ترکمانستان کے وزیرِ تعلیم جمعہ مراد قربان گیلدییف سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔

اس بین الاقوامی فورم کا مقصد ثقافتی روابط کے فروغ، مشترکہ تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، بین الریاستی انسانی ہمدردی پر مبنی مکالمے کے فروغ اور تخلیقی و ثقافتی صنعتوں کو جدید بین الاقوامی تعاون کے اہم شعبے کے طور پر آگے بڑھانے سے متعلق امور پر غور کرنا تھا۔

کانفرنس کے مرکزی اجلاس کا موضوع "ثقافتوں کا باہمی تعامل: جدید دنیا میں ورثے کا تحفظ اور عالمی مکالمہ” تھا، جس میں شرکاء نے تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ممالک کے درمیان ثقافتی و انسانی روابط کو مضبوط بنانے کے عملی طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

کانفرنس کے پروگرام میں "بین الثقافتی مکالمہ: روایات، جدید مفاہیم اور تعاون کے نئے طریقہ کار” کے عنوان سے ایک خصوصی پینل مباحثہ بھی شامل تھا۔ اس نشست میں فلم سازی، تھیٹر، کتب خانوں اور عجائب گھروں کے امور، موسیقی کی ثقافت اور تخلیقی تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے موجودہ رجحانات اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

اپنے خطاب میں ترکمانستان کے وزیرِ تعلیم جمعہ مراد قربان گیلدییف نے کہا کہ دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) کی 2026 کی چیئرمین شپ کے دوران ترکمانستان ثقافتی اور انسانی تعاون کے فروغ، تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، بین الریاستی مکالمے کی توسیع اور شراکت داری کی جدید شکلوں کے فروغ کو خصوصی اہمیت دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکمانستان اپنی "کھلے دروازوں” کی پالیسی اور مستقل غیر جانبداری کی حیثیت کی روشنی میں ثقافت کو ایک "سنہری پل” تصور کرتا ہے جو اقوام کو آپس میں جوڑنے، اعتماد، باہمی تفہیم اور احترام کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

کانفرنس میں ترکمانستانی وفد کی شرکت ملک کے اس مستقل عزم کی عکاس ہے کہ وہ ثقافتی اور انسانی تعاون کو فروغ دینے، اقوام کے درمیان دوستی اور باہمی مفاہمت کو مضبوط بنانے اور سی آئی ایس کے فریم ورک کے تحت مشترکہ اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

ترکمانستان نے اس موقع پر باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید وسعت دینے، ثقافتی تبادلوں کے فروغ، مشترکہ منصوبوں کی حمایت اور شریک ممالک کے ثقافتی و تعلیمی اداروں اور تخلیقی برادریوں کے درمیان پیشہ ورانہ روابط کو مستحکم کرنے میں اپنی گہری دلچسپی کا اعادہ بھی کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
تاجکستان Previous post تاجکستان اور جارجیا کے درمیان اقتصادی و سفارتی تعاون کے فروغ پر اتفاق، 11 دوطرفہ معاہدوں پر دستخط
COP17 Next post آذربائیجان: ماحولیات کے تحفظ سے متعلق اتحاد کا COP17 اور لیڈرز سمٹ سے شفاف اقدامات کا مطالبہ