یورپ

یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، کئی ممالک میں جون کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، اموات میں اضافہ

Read Time:4 Minute, 36 Second

برسلز، یورپ ٹوڈے: یورپ شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہے، جہاں جرمنی، بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں جون کے مہینے کے درجہ حرارت کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، جبکہ اسپین اور فرانس میں گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صحت کے خدشات کے پیش نظر متعدد ممالک میں عوامی تقریبات، کنسرٹس اور کھیلوں کے ایونٹس بھی منسوخ یا ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے جنوب مغربی شہر زاربروکن میں عارضی طور پر 41.3 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ ہے۔ فرانس میں بھی مسلسل تین روز تک غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی، تاہم فرانسیسی وزیر صحت اسٹیفنی رسٹ نے خبردار کیا ہے کہ گھروں میں ہونے والی اموات میں اضافہ انتہائی تشویشناک ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی ترجمان کلیئر نولس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے صحت، ماحول، زراعت اور مزدوروں پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور دنیا کو مستقبل میں ایسے موسمی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

غیر معمولی گرمی کی لہر بتدریج شمالی اور مشرقی یورپ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ بیلجیئم کے ماہرین موسمیات کے مطابق کلائن بروگل میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ نیدرلینڈز کے صوبہ لمبرگ میں 39.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانیہ میں بھی سفوک کے علاقے کیونڈش میں جون کا عارضی ریکارڈ 37.1 ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعہ کے روز یورپ میں کم از کم 15 کروڑ افراد ایسے علاقوں میں موجود تھے جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ جمہوریہ چیک میں 2012 کا 40.4 ڈگری سینٹی گریڈ کا قومی ریکارڈ ہفتہ کو ٹوٹ سکتا ہے، جبکہ آسٹریا میں اتوار کو نیا ریکارڈ قائم ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بلقان کے ممالک خصوصاً سربیا میں بھی ہفتہ وار تعطیلات کے دوران 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں دریائے آرے کا پانی 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہونے کے باعث بیزناؤ جوہری بجلی گھر کے دونوں ری ایکٹر حفاظتی اقدامات کے تحت بند کر دیے گئے کیونکہ اس درجہ حرارت پر دریا کا پانی ری ایکٹرز کو مؤثر انداز میں ٹھنڈا رکھنے کے لیے موزوں نہیں رہا۔

ادھر ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن کے سائنس دانوں نے بتایا کہ فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور جنوبی انگلینڈ میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 12 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ فضا میں قائم طاقتور ہائی پریشر سسٹم ہے۔ ماہرین کے مطابق جون کا مہینہ دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے اور موجودہ گرمی کی لہر متعلقہ خطے کی تاریخ کی شدید ترین ہیٹ ویو قرار دی جا رہی ہے۔

سائنس دانوں نے اس صورتحال کو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جہاں عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ رفتار سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

شدید گرمی کے باعث جرمنی سے فرانس جانے والی یوروسٹار ٹرین بیلجیئم کے قریب خراب ہوگئی، جس میں تقریباً 400 مسافر سوار تھے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر تین افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

فرانس میں صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث پیرس میں دو بڑے عوامی پروگرام منسوخ کر دیے گئے، جن میں پیرس پرائیڈ مارچ اور سولی ڈیز میوزک فیسٹیول شامل ہیں، جبکہ ڈائمنڈ لیگ ایتھلیٹکس مقابلے کو وقت میں تبدیلی کے ساتھ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیدرلینڈز میں شدید گرمی کے باعث معروف ڈیف کون 1 میوزک فیسٹیول بھی منسوخ کر دیا گیا، جس پر شرکاء نے شدید احتجاج کیا اور پولیس کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔ جرمنی میں بھی متعدد تقریبات، جن میں ہیمبرگ ہاف میراتھن شامل ہے، منسوخ کر دی گئی ہیں۔

فرانس میں گرمی کے باعث مارسیلز میں ایک ڈیڑھ سالہ بچہ گاڑی میں زیادہ دیر بند رہنے سے ہائپر تھرمیا کا شکار ہو کر جاں بحق ہوگیا، جبکہ حالیہ دنوں میں اسی نوعیت کے کئی افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ملک میں ہیٹ ویو شروع ہونے کے بعد ڈوبنے سے ہونے والی اموات کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر افراد غیر محفوظ مقامات پر تیراکی کر رہے تھے۔

اسپین کے سرکاری MoMo مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق اتوار سے جمعرات کے درمیان شدید گرمی سے منسلک 327 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سے بیشتر گزشتہ دو روز کے دوران ہوئیں۔ اگرچہ اسپین میں درجہ حرارت میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم بارسلونا کے شمال مشرق میں جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث 16 ہزار افراد کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت جاری کی گئی، جبکہ پولیس نے ایک شخص کو آگ لگانے کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز میں موسمِ سرما کے دوران جمع ہونے والی برف کے ذخائر معمول سے کئی ہفتے پہلے ختم ہونے والے ہیں۔ ان کے مطابق پیر تک بیشتر گلیشیئرز پگھلنے کے مرحلے میں داخل ہو جائیں گے، حالانکہ یہ عمل عموماً اگست میں شروع ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال 2022 کے بعد سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جب ملک کے گلیشیئرز کے مجموعی حجم کا تقریباً 6 فیصد حصہ ایک ہی سال میں ختم ہوگیا تھا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کمیٹی Previous post قومی پیغامِ امن کمیٹی کا یومِ عاشور پر ملک بھر میں پرامن فضا برقرار رکھنے پر علما، سیکیورٹی اداروں اور حکومت کو خراجِ تحسین
بلوچستان Next post پاکستان بحریہ کی مضبوطی، سمندری سرحدوں کے تحفظ اور علاقائی امن کے فروغ کے عزم کا اعادہ، وزیراعظم شہباز شریف