
سویڈن میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے اسمارٹ فون استعمال پر پابندی کی سفارش، ڈیجیٹل تحفظ پر بحث تیز
اسٹاک ہوم — سویڈن کی پبلک ہیلتھ ایجنسی نے سفارش کی ہے کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو اپنا ذاتی اسمارٹ فون نہیں دیا جانا چاہیے، جس کے بعد بچوں کی ڈیجیٹل زندگی اور آن لائن تحفظ پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
یہ سفارش حکومت کی جانب سے اپریل میں دیے گئے اس ہدایت نامے کے بعد سامنے آئی، جس میں ایجنسی کو بچوں کے لیے اسمارٹ فون کے استعمال کی مناسب کم از کم عمر کا تعین کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ جمعرات کو جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو ذاتی اسمارٹ فون نہیں دیا جانا چاہیے۔
اس تجویز پر انٹرنیٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ تنظیم نے تسلیم کیا کہ بچوں کی ڈیجیٹل زندگی ایک اہم سماجی مسئلہ ہے، تاہم اس بات پر زور دیا کہ معاملہ صرف پابندی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
انٹرنیٹ فاؤنڈیشن کی کمیونیکیشنز اور کمیونٹی سروس کی سربراہ جینی کی ٹلّو نے کہا کہ والدین کے لیے رہنمائی اور مدد کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیاں روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا استعمال اور وہ ڈیجیٹل ماحول ہے جس میں بچے موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “اصل مسئلہ فون نہیں بلکہ یہ ہے کہ بچے آن لائن کس ماحول کا سامنا کر رہے ہیں۔”
جینی کی ٹلّو نے بچوں اور نوجوانوں کے آن لائن رویوں پر وسیع تر بحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ اب ان کی سماجی اور تعلیمی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ والدین کو بہتر معاونت فراہم کرنا اور بچوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مستقبل کے ڈیجیٹل معاشرے کے لیے تیار ہو سکیں۔
پبلک ہیلتھ ایجنسی کے مطابق سویڈن میں 90 فیصد دس سالہ بچے پہلے ہی اسمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں۔ جینی کی ٹلّو نے خبردار کیا کہ اس نئی سفارش سے کچھ بچے سماجی طور پر الگ تھلگ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسمارٹ فون صرف منفی اثرات نہیں رکھتے بلکہ ان میں حفاظتی فیچرز جیسے لوکیشن ٹریکنگ شامل ہوتی ہے جو والدین کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ بچے آن لائن کن تجربات سے گزرتے ہیں۔