آذربائیجان

پہلی ترکولوجیکل کانگریس کی صد سالہ تقریبات، آذربائیجان کی میزبانی کو علامتی اہمیت حاصل ہے: صدر الہام علیئیف

Read Time:1 Minute, 37 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے پہلی ترکولوجیکل کانگریس کی 100ویں سالگرہ کی تقریبات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیمِ ترک ریاستوں (او ٹی ایس) کی موجودہ آذربائیجانی صدارت کے دوران اس تاریخی موقع کا انعقاد خصوصی علامتی اہمیت کا حامل ہے۔

ترک دنیا کے ہفتہ (Turkic World Week) کے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں صدر علیئیف نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں قبالہ میں منعقدہ تنظیمِ ترک ریاستوں کی کونسل برائے سربراہانِ مملکت کے 12ویں سربراہی اجلاس میں ان کی جانب سے پیش کی گئی تجویز آج عملی شکل اختیار کر چکی ہے۔

صدر علیئیف نے کہا، "مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ اکتوبر قبالہ میں تنظیمِ ترک ریاستوں کی کونسل برائے سربراہانِ مملکت کے 12ویں سربراہی اجلاس میں پہلی ترکولوجیکل کانگریس کی 100ویں سالگرہ منانے کے حوالے سے میری پیش کردہ تجویز آج حقیقت بن گئی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ترک دنیا کے ہفتے کا انعقاد آذربائیجان کی تنظیمِ ترک ریاستوں کی موجودہ صدارت کے دوران ہونا ان تقریبات کی علامتی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

صدر نے کہا کہ باکو کے تاریخی اسماعیلیہ محل میں منعقد ہونے والی پہلی ترکولوجیکل کانگریس نے دنیا بھر کے ممتاز ماہرینِ ترکولوجی اور نامور محققین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تھا، جس نے مشترکہ تاریخ اور عظیم ثقافتی ورثے سے وابستہ ترک اقوام کے ثقافتی اتحاد کی فکری بنیاد فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کانگریس ترک دنیا کی فکری اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنگِ میل ہے اور آج بھی ترک اقوام کے درمیان تعاون کے فروغ، مشترکہ شناخت کے تحفظ اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے باعثِ تحریک ہے۔

ترک دنیا کے ہفتے کے تحت منعقد ہونے والی صد سالہ تقریبات پہلی ترکولوجیکل کانگریس کے دیرپا تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ترک ریاستوں کے درمیان اتحاد، ثقافتی مکالمے اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے آذربائیجان کے عزم کی بھی تجدید کرتی ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آرکاداگ Previous post آرکاداگ شہر کی دوسری سالگرہ، صدر سردار بردی محمدوف کی شہریوں کو مبارکباد، ترقیاتی کامیابیوں کو سراہا
سندھ طاس Next post سندھ طاس معاہدہ صرف دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ عالمی انصاف اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے: مصدق ملک