شہباز شریف

پارلیمانی جمہوریت، آئینی بالادستی اور شفاف طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے پاکستان پُرعزم ہے: وزیراعظم شہباز شریف

Read Time:2 Minute, 30 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پارلیمانیت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان جمہوری اداروں کے استحکام، آئین کی بالادستی، پارلیمانی طرزِ حکمرانی، شفافیت، احتساب، قانون کی حکمرانی اور عوام کی فیصلہ سازی میں بامعنی شمولیت کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا آئین نمائندہ جمہوریت کے اصولوں پر مبنی نظامِ حکومت کی ضمانت دیتا ہے، جس کے مطابق اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں اور ان کے منتخب نمائندے اس اختیار کو قوم کی خدمت، فلاح اور خوشحالی کے لیے ایک مقدس امانت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے پارلیمانیت کے عالمی دن پر اس عزم کی تجدید کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت، وفاقیت، شمولیت، قانون کی حکمرانی، شفافیت، احتساب اور عوامی فلاح کے اصولوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمان وہ بنیادی آئینی ادارہ ہے جہاں عوام کی خواہشات اور مسائل کو قانون سازی کی صورت دی جاتی ہے۔ یہ وہ فورم ہے جہاں قوانین بنائے جاتے ہیں، قومی معاملات پر غور کیا جاتا ہے اور عوامی وسائل کے مؤثر، محتاط اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمانی جمہوریت نے معاشرے کے تمام طبقات کی مؤثر نمائندگی کے فروغ میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پارلیمان خواتین، اقلیتوں، چھوٹے صوبوں اور دیگر ایسے طبقات کو مؤثر آواز فراہم کرتی ہے جو ماضی میں نسبتاً کم نمائندگی رکھتے تھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آئین میں ان طبقات کی شرکت اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر ضمانتیں فراہم کی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خواتین اور غیر مسلم شہریوں کے لیے مخصوص نشستیں اسی آئینی عزم کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ سینیٹ وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی دے کر پاکستان کے وفاقی تشخص کو مضبوط بنانے اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت، عوامی رسائی اور جدید پارلیمانی روایات جمہوری نظامِ حکومت کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے قانون سازی، پارلیمانی مباحث، قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات عوام کے لیے آسانی سے دستیاب بنا کر شفافیت اور شہریوں کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان بین الاقوامی پارلیمانی سفارت کاری میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ بین الپارلیمانی یونین، پارلیمانی دوستی گروپس اور دیگر عالمی فورمز کے ذریعے پاکستان عالمی امن، مکالمے، پائیدار ترقی، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اپنا مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمان عوام اور ریاست کے درمیان ایک مضبوط آئینی پل کی حیثیت رکھتی ہے، جو اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ حکمرانی عوام کی خواہشات، توقعات اور اجتماعی فلاح و بہبود کے مطابق آگے بڑھے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان کا خطے میں ڈیجیٹل قیادت کا ہدف، ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ کونسل کا پہلا اجلاس، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی پر زور